وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر نےسپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وکلا اپنی ڈگری دکھا دیں تو وہ ان سے معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں جعلی ڈگریوں کی بحث ایک بار پھر شروع ہوچکی ہے اور ماضی میں سیاست دانوں کی جعلی ڈگریوں کا معاملہ بھی سامنے آچکا ہے۔
کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کی گفتگو سے ان کا اپنا کیس کمزور ہوا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ سیاست میں ان سے جونیئر ہیں، اس لیے انہیں جعلی ڈگریوں کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) ان کی اپنی جماعت ہے اور وہ اس معاملے پر سیاست سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، سینئر وکیل احسن بھون نے کیپٹن (ر) صفدر کو 5 ارب روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھجوا دیا ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق یہ قدم کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے احسن بھون کی تعلیمی قابلیت اور وکالت کے پیشے پر عائد کردہ جھوٹے اور شدید ہتک آمیز الزامات کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔