صومالیہ کی میری ٹائم پولیس نے قزاقوں کے قبضے سے پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’آنر 25‘ کو بازیاب کرا لیا، تاہم جہاز کو چھڑانے کے لیے کی گئی کارروائی کے دوران جانی نقصان بھی ہوا۔
انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق قزاقوں کی فائرنگ سے 3 پاکستانیوں سمیت 5 افراد جان سے گئے، جن میں ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری بھی شامل ہے، جبکہ 4 پاکستانی زخمی ہوئے۔ صومالی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران 9 قزاقوں کو گرفتار کیا گیا اور ٹینکر پر موجود 17 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔
جاں بحق پاکستانیوں کا تعلق کراچی سے بتایا گیا ہے۔ ان میں سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود انصاری اور رفیع اللہ خان شامل ہیں۔ کاشف عمر کی کمسن بیٹی نے والد کی موت کی خبر آنے سے کچھ وقت قبل ایک ویڈیو کے ذریعے وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی بحفاظت واپسی کی درخواست کی تھی۔
بچی نے اپنے والد کی سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ انہیں دوبارہ اپنے پاس دیکھنا چاہتی ہے، تاہم آپریشن کے دوران کاشف عمر جان سے گئے۔
رپورٹس کے مطابق ’آنر 25‘ کو رواں سال اپریل میں ہائی جیک کیا گیا تھا اور عملہ تقریباً ساڑھے پانچ ماہ تک قزاقوں کے قبضے میں رہا۔ ٹینکر پر 10 پاکستانیوں سمیت بھارت، میانمار اور انڈونیشیا کے شہری بھی موجود تھے، جبکہ ہائی جیکنگ کے وقت جہاز میں تقریباً 18 ہزار 500 بیرل تیل موجود تھا۔
عملے کے ایک رکن کے مطابق فرار ہوتے ہوئے قزاقوں نے جہاز کو بھی نقصان پہنچایا۔ متاثرہ ٹینکر کو صومالی فورسز کی مدد سے وساکو شہر کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی عملے کی جانب سے زخمیوں کے فوری علاج اور جاں بحق افراد کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔