تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی پارٹی کے اندر ہونے والی تنقید اور سوشل میڈیا پر اپنے خلاف ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے لائیو پروگرام میں جذباتی ہوگئے۔ معاملہ اس خط سے شروع ہوا جس میں انہوں نے پارٹی قیادت سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔
شوکت یوسفزئی کے مطابق انہوں نے ایک سینئر رکن کی حیثیت سے ممکنہ مشکلات کی نشاندہی کی تھی تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے خط پر سامنے آنے والے ردعمل نے انہیں مایوس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب 4 اکتوبر کے مارچ کا اعلان ہوا تو وہ اس میں شریک ہونے کے لیے تیار تھے، لیکن خط کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف استعمال ہونے والی زبان تکلیف دہ تھی۔
گفتگو کے دوران وہ اس وقت آبدیدہ ہوگئے جب انہوں نے بتایا کہ ان کی وفاداری پر سوال اٹھائے جارہے ہیں اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ انہوں نے اپنا مؤقف کسی مفاد کے تحت اختیار کیا۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اصول اور پارٹی کے مفاد کی بات کررہے ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے پارٹی کے سوشل میڈیا کارکنوں کے رویے پر بھی سخت اعتراض کیا اور کہا کہ غیر ضروری الزام تراشی سے جماعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اختلاف یا تحفظات کا اظہار پارٹی چھوڑنے کے مترادف نہیں اور ان کا تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔