دورانِ پرواز حملے کا نشانے بننے والے ’کیپٹن سمت مچھر‘ کو نیتن یاہو کا خراجِ تحسین، ’وہ ایک سچے ہیرو ہیں‘

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان مسافروں سے ملاقات کی ہے جو سعودی عرب سے واپس لائی گئی خصوصی پرواز کے ذریعے اسرائیل پہنچے ہیں۔ یہ مسافر دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی اُس پرواز میں سوار تھے جس میں ایک پائلٹ نے اپنے ساتھی پر چاقو سے حملہ کیا تھا اور طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔
Fly Dubai
Reuters
مسافروں کو سعودی عرب سے واپس اسرائیل پہنچانے والی پرواز تل ابیب پہنچ چکی ہے

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے دورانِ پرواز حملے کا نشانہ بننے والے پائلٹ کی شناخت ’کیپٹن سمت مچھر‘ کے نام سے ظاہر کی ہے اور بتایا ہے کہ ان کا تعلق انڈیا سے ہے۔

نیتن یاہو نے کیپٹن مچھر کو ’غیر معمولی بہادری‘ کا مظاہرہ کرنے والا ’سچا ہیرو‘ قرار دیا اور ایکس پر لکھا کہ ’چاقو کے وار سے زخمی ہونے اور شدید چوٹ آنے کے باوجود انھوں نے حملہ آور کا مقابلہ کیا، مزاحمت کی، کاک پٹ کا دروازہ کھولا اور مسافروں اور عملے کو حملہ آور پر قابو پانے میں مدد دی، جس سے دورانِ پرواز ایک بڑے سانحے کو روکا جا سکا۔‘

ساتھ ہی سعودی عرب کے شہر ریاض میں انڈین سفارتخانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دورانِ پرواز حملے کا نشانہ بننے والے انڈین پائلٹ سمت مچھر کی صحت کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

سفارتخانے کے مطابق پرواز کا رخ موڑ کر اسے سعودی شہر تبوک لایا گیا، جہاں سمت مچھر کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ انھیں اس وقت ضروری طبی امداد دی جا رہی ہے۔

سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ’ان کی صحت کے بارے میں مکمل معلومات ابھی دستیاب نہیں ہیں، تاہم اطلاعات کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے۔‘

بین گوریون ہوائی اڈے پر ان مسافروں سے ملاقات کی ہے جو سعودی عرب سے بذریعہ خصوصی پرواز اسرائیل پہنچے ہیں۔

یہ مسافر دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی اُس پرواز میں سوار تھے جس میں ایک پائلٹ نے اپنے ساتھی پر چاقو سے حملہ کیا تھا اور طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کا پائلٹ ’بظاہر جہاز کو مسافروں کے ہمراہ کریش کرنا چاہتا تھا۔‘

بدھ کے روز دبئی سے اسرائیل کے شہر تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔ یہ طیارہ تقریباً 150 مسافروں کو لے جا رہا تھا، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔

مسافروں کا کہنا ہے کہ پرواز کے دوران کاک پٹ میں موجود دو پائلٹس کے درمیان جھگڑا ہوا اور ایک پائلٹ پر چاقو سے وار کیا گیا تھا۔

بدھ کے روز نیتن یاہو نے اس واقعے پر اپنے بیان میں کہا کہ ’جس پائلٹ نے چاقو زنی کی اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس وقت سعودی حکام اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔‘

’میں نے حملہ آور کو پکڑا‘

فلائی دبئی کی پرواز کے مسافروں کو متبادل طیارے میں تبوک سے تل ابیب منتقل کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو میں انھیں مسافروں سے گلے ملتے اور ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والے ایک شخص نے خون آلود ٹی شرٹ پہن کھی ہے۔

ویڈیو کے ساتھ یہ کیپشن درج ہے: ’یانیو، جو دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کے دوران کاک پٹ میں داخل ہوئے تھے۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو یانیو سے پوچھتے ہیں کہ انھوں نے یہ سب کیسے کیا۔

جواب میں یانیو کہتے ہیں کہ کاک پٹ کا دروازہ کھولنا آسان نہیں تھا کیونکہ زخمی پائلٹ دروازے کے بالکل قریب موجود تھے۔

ان کے بقول: ’جس پائلٹ کو چاقو مارا گیا تھا، وہ دروازے کے بہت قریب تھے، اس لیے ہمارے لیے دروازہ کھولنا مشکل ہو رہا تھا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پائلٹ کے گرنے سے پہلے دروازہ کھل گیا۔

یانیو نے کہا: ’جب میں اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ حملہ آور کاک پٹ میں آلات کے اوپر جھکے ہوئے تھے اور پائلٹ اپنی نشستوں پر موجود نہیں تھے۔

’ایک پائلٹ نیچے گرے ہوئے تھے اور دوسرے کاک پٹ کے آلات پر گرے پڑے تھے۔ میرے ساتھ ایک اور شخص بھی اندر آئے تھے۔ میں نے حملہ آور کو پکڑا، اور گردن کو جکڑ کر انھیں کاک پٹ سے باہر کھینچا۔‘

ان کے مطابق حملہ آور ’طیارے کو ناکارہ بنانے کے لیے کاک پٹ میں نصب آلات کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

یانیو نے بتایا کہ اس کے بعد انھوں نے ’طیارے میں موجود اسرائیلی مسافروں‘ کو آواز دی اور سب نے مل کر حملہ آور کو قابو میں رکھا تاکہ وہ دوبارہ کوئی کارروائی نہ کر سکیں۔

یانیو نے اسرائیلی وزیر اعظم کو بتایا کہ انھوں نے طیارے کے کنٹرول بھی سنبھالے کیوں کہ وہ طیاروں کے حادثوں کی تحقیقات سے متعلق ویڈیوز دیکھا کرتے تھے۔

یانیو کے مطابق انھوں نے پائلٹ کے طیارہ سنبھالنے تک کنٹرولز کو تھامے رکھا۔

فائل فوٹو: فلائی دبئی کے ایک بوئنگ 737 میکس طیارے کا کاک پٹ۔ یہ تصویر نومبر 2025 میں دبئی ایئر شو کے دوران لی گئی تھی
AFP via Getty Images
فائل فوٹو: فلائی دبئی کے ایک بوئنگ 737 میکس طیارے کا کاک پٹ۔ یہ تصویر نومبر 2025 میں دبئی ایئر شو کے دوران لی گئی تھی

اس واقعے کے ابتدائی ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ نے اپنے جنگی طیارے روانہ کیے جبکہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فوری مشاورت بھی کی۔

بی بی سی عربی کے یروشلم میں موجود نامہ نگار کے مطابق یہ صورتحال اُس وقت پیش آئی جب ایک پائلٹ نے طیارے کا رُخ تبدیل کیا۔ طیارہ پہلے اُردن کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور بعد ازاں اس کا راستہ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا۔

فلائی دبئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ پرواز کو سفر کے دوران ’ایک واقعے‘ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم تمام مسافر محفوظ ہیں۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن ’فلائی دبئی‘ کی پرواز نمبر ایف زیڈ 1073 بدھ کو علی الصبح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی تھی۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق روانگی کے تقریباً دو گھنٹے بعد طیارے کی جانب سے کوڈ نمبر 7700 نشر کیا گیا، جو ہنگامی صورتحال کی نشان دہی کرتا ہے۔

کچھ ہی منٹ بعد طیارے نے کوڈ نمبر 7500 بھی نشر کیا، جو عموماً طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ جیسے واقعے کی اطلاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعد میں اسے دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل میں بدل دیا گیا۔

ہنگامی لینڈنگ کرنے والے طیارے کی پرواز کا ڈیٹا
Anadolu via Getty Images

فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے نے پرواز بھرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد سعودی عرب کی فضائی حدود میں اچانک تیزی سے بلندی کم کرنا شروع کر دی اور پاکستانی وقت کے مطابق 10:21 بجے کے فوراً بعد طیارہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے آ گیا۔

اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرواز مختصر وقت کے لیے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئی، تاہم چند منٹ بعد دوبارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں واپس آ گئی۔

تل ابیب جانے والی اس پرواز نے سعودی عرب کے شمال مشرقی شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی۔

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

اسرائیلی شہری یاسمین ابو قسیس، جن کی بیٹی فلائی دبئی کی اس پرواز میں سفر کر رہی تھیں
AFP via Getty Images
اسرائیلی شہری یاسمین ابو قسیس، جن کی بیٹی فلائی دبئی کی اس پرواز میں سفر کر رہی تھیں

خبر رساں اداروں اور اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرنے والے مسافروں اور ان کے اہل خانہ نے واقعے کی تفصیلات بتائی ہیں۔

پرواز میں سوار ایک خاتون مسافر مریم کی والدہ یاسمین ابو قسیس نے خبر رساں اداروں اے پی اور روئٹرز کو بتایا کہ ان کی بیٹی نے فون پر اطلاع دی کہ طیارے میں چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی اور ایک پائلٹ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔

یاسمین کے مطابق ان کی بیٹی نے بتایا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے طیارہ قابو سے باہر ہو رہا ہو، جس پر مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یاسمین ابو قسیس کے مطابق اُن کی بیٹی مریم نے انھیں بتایا کہ ایک شخص نے چاقو کے زور پر پائلٹوں میں سے ایک کو زمین پر گرایا ہوا تھا، جبکہ طیارے کے اندر ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔

یاسمین ابوقسیس نے روئٹرز کو بتایا کہ بعد ازاں دو دیگر پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ مسافر ایک ایسے شخص کی طرف بڑھے جس کے ہاتھ میں چاقو تھا۔

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ سے گفتگو کرنے والے ایک مسافر نے کہا کہ ایک پائلٹ کو دوسرے پائلٹ نے چاقو مارا تھا، تاہم طیارے کے اگلے حصے میں موجود مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو کاک پٹ سے باہر نکالنے میں مدد دی۔

انھی مسافر کا مزید کہنا تھا کہ طیارے کے پچھلے حصے میں موجود دو دیگر پائلٹس نے بعد میں پرواز کی ذمہ داری سنبھالی اور طیارے کو بحفاظت اتارنے میں مدد کی۔

ایک اور مسافر الموگ اٹالی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ دونوں پائلٹ ’ریلیف پائلٹس‘ تھے، جنھیں بعد میں ایک دوسری پرواز کی ذمہ داریاں سنبھالنی تھیں۔

اٹالی کے مطابق ان میں سے ایک پائلٹ برطانوی تھے، جبکہ دوسرے کے بارے میں انھوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ یورپی تھے، تاہم ان کی قومیت نہیں بتائی۔

اٹالی کا کہنا تھا کہ کاک پٹ کے اندر پیش آنے والے واقعے کی درست تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، تاہم ان کے مطابق ریلیف پائلٹس نے طیارے کو دوبارہ قابو میں لیا اور اسے سعودی عرب میں بحفاظت اتارا۔

طیارے میں موجود ایک اسرائیلی مسافر نے صحافیوں کو بتایا کہ عملے نے مسافروں سے مدد طلب کی، جس کے بعد بعض مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا اور اسے باندھ دیا۔

اخبار اسرائیل ہیوم سے بات کرنے والی ایک خاتون مسافر نے کہا کہ مسافروں نے یہ سمجھا کہ پائلٹس طیارے کا کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔ ان کے بقول ایک پائلٹ کو چاقو کے زخم آئے تھے جو سنگین نوعیت کے تھے، اور کچھ مسافروں کے کپڑوں پر خون بھی لگا ہوا تھا۔

اسرائیلی شہری میئر زوہار کے بیٹے فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں سوار تھے۔ وہ تل ابیب کے قریب بین گوریون ایئرپورٹ پر موبائل فون پر گفتگو کر رہے ہیں
AFP via Getty Images
اسرائیلی شہری میئر زوہار کے بیٹے فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں سوار تھے۔ وہ تل ابیب کے قریب بین گوریون ایئرپورٹ پر موبائل فون پر گفتگو کر رہے ہیں

اسرائیلی میڈیا نے ایک ایسے شخص کی ویڈیو شیئر کی ہے جو بظاہر اسی پرواز میں موجود ہیں اور واقعے کی تفصیلات بیان کر رہے ہیں۔

بی بی سی ویریفائی کے مطابق ویڈیو کے جائزے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے رد و بدل کے شواہد نہیں ملے اور بظاہر یہ ویڈیو واقعے سے پہلے کہیں آن لائن پوسٹ نہیں کی گئی تھی۔

ویڈیو میں اس شخص کے چہرے پر خون دکھائی دے رہا ہے، اور وہ خود اپنی ویڈیو بناتے ہوئے کہہ رہے ہیں: ’ہم یہاں ہیں، طیارے میں۔ ہم نے ابھی شدت پسندوں پر قابو پایا ہے۔ ہم لینڈ کرنے والے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’جو بھی میری آواز سن رہا ہے، ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ہم تبوک میں اتر رہے ہیں۔ پرواز میں سوار تمام لوگ خیریت سے ہیں اور محفوظ ہیں، سوائے پائلٹ کے۔ ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔‘

حکام کا کیا کہنا ہے؟

فلائی دبئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 30 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ جانے والی اس کی پرواز کو راستے میں ’ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔‘

فلائی دبئی کے ترجمان کے مطابق پرواز کے دوران فلائٹ ڈیک میں جھگڑا ہوا۔

ایئرلائن کا کہنا ہے کہ طیارے میں سفر کرنے والے فلائی دبئی کے ڈیوٹی پر موجود عملے نے صورت حال پر کامیابی سے قابو پایا، جس کے بعد طیارے کا رخ موڑ کر اسے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا۔

بیان کے مطابق تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔

ایئرلائن نے کہا کہ ’واقعے کی بنیادی وجوہات اور محرکات معلوم نہیں ہیں اور با ضابطہ تحقیقات کے ذریعے ان کا تعین کیا جائے گا۔‘

ایئرلائن نے اپیل کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے کو چلانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز کے کپتان اور فرسٹ آفیسر دونوں زخمی ہوئے اور انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق تبوک ایئرپورٹ کے فضائی ٹریفک کنٹرول مرکز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 8:44 بجے فلائی دبئی کے طیارے سے ہنگامی کال موصول ہوئی، جس میں طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی۔

بیان کے مطابق اس کے تقریباً ایک گھنٹے بعد طیارہ بحفاظت تبوک ہوائی اڈے پر اتر گیا۔

طیارے میں سوار مسافروں کے اہل خانہ اور میڈیا کے نمائندے اسرائیل کے بین گوریون ائیرپورٹ پر جمع ہیں
Getty Images
طیارے میں سوار مسافروں کے اہل خانہ اور میڈیا کے نمائندے اسرائیل کے بین گوریون ائیرپورٹ پر جمع ہیں

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک پائلٹ کا طیارے کو جان بوجھ کر تباہ کرنے اور اس کے نتیجے میں تمام مسافروں کو ہلاک کرنے کا ارادہ تھا۔ انھوں نے اس واقعے کو ’جہادی دہشت گرد حملے کی ناکام کوشش‘ قرار دیا اور پائلٹ کو قابو کرنے پر اسرائیلی مسافروں کی تعریف کی۔

اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتامار بن گویر نے بھی اس واقعے پر سوشل میڈیا پر ردعمل دیا، تاہم بظاہر وہ حکومت کی جانب سے با ضابطہ مؤقف پیش نہیں کر رہے تھے۔

بن گویر نے کہا کہ ایک ’شدت پسند نے طیارہ گرانے اور اس میں سوار افراد کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔‘

انھوں نے طیارے میں موجود ’بہادر مسافروں‘ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ’سکیورٹی نظریے‘ کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو مختلف محاذوں پر ’مکمل فتح‘ حاصل کیے بغیر نہیں رکنا چاہیے۔

دوسری جانب اسرائیل کی بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولان نے طیارے میں موجود مسافروں کی بہادری کو سراہا، لیکن ساتھ ہی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے کو 'سستی سیاسی پوائنٹس سکورنگ' کے لیے استعمال کر رہی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US