وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت خیبرپختونخوا کی مجموعی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر اہم اجلاس ہوا جس میں صوبے کے حالات اور ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گورنر راج اور ایمرجنسی سمیت مختلف آئینی و قانونی آپشنز پر بھی غور کیا گیا، تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر کشمیر امور امیر مقام، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گورنر راج، ایمرجنسی سمیت مختلف آئینی و قانونی پہلوؤں پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں افغان سرحد پر سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ صوبے کی سیاسی صورتحال اور پاکستان تحریک انصاف سے ہونے والے پسِ پردہ رابطوں سے متعلق بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت کی امن و امان کی صورتحال سے متعلق کارکردگی پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم خیبرپختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی اقدام سے قبل تمام سیاسی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات متوقع ہے جس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال، آئینی و قانونی معاملات اور ممکنہ اقدامات پر مزید مشاورت کی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی مخالفت کرتے ہوئے ممکنہ لانگ مارچ کو سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب ممکنہ لانگ مارچ کی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کی ہے، جس کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔