انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے تمام فارمیٹس کی پلیئنگ کنڈیشنز میں اہم تبدیلیاں کردی ہیں، جن کا نفاذ یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی تمام انٹرنیشنل سیریز میں ہوگا۔
نئے قوانین کے تحت وقت ضائع کرنے والے بیٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر بیٹر مقررہ وقت میں گیند کھیلنے کے لیے تیار نہ ہوا تو پہلی خلاف ورزی پر وارننگ جبکہ دوسری خلاف ورزی پر فائنل وارننگ دی جائے گی۔
تیسری اور اس کے بعد کی ہر خلاف ورزی پر فیلڈنگ سائیڈ کو 5 پینلٹی رنز دیے جائیں گے، جبکہ بار بار وقت ضائع کرنے پر پلیئرز کے خلاف ضابطہ اخلاق کے تحت بھی کارروائی ہو سکے گی۔
ٹیسٹ کرکٹ میں خراب روشنی کے باعث کھیل کے ضائع ہونے کا وقت کم کرنے کے لیے ڈے ٹیسٹ میچز میں پنک بال کے استعمال کا تجرباتی فیصلہ کیا گیا ہے۔
تاہم پنک بال کے استعمال پر میچ شروع ہونے سے قبل دونوں ٹیموں کا اتفاق ضروری ہوگا، اور ایک بار اتفاق کے بعد میچ کے دوران decision تبدیل نہیں کیا جا سکے گا اور ریڈ بال سے پنک بال پر سوئچ کی اجازت نہیں ہوگی۔
علاوہ ازیں، دن کے آخری اوور میں وکٹ گرنے سے لازمی طور پر دن کا کھیل ختم نہیں ہوگا، اگر موسم اور حالات سازگار ہوں تو باقی گیندیں مکمل کرائی جا سکیں گی تاکہ وقت کی بچت ہو اور فیلڈنگ ٹیم کو فائدہ ملے۔
محدود اوورز کی کرکٹ میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اب 15 منٹ کا مقررہ وقفہ ہوگا، جسے وقت ضائع ہونے کی صورت میں کم سے کم 10 منٹ کیا جا سکے گا۔
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ڈرنکس بریک کے دوران ہیڈ کوچ یا ان کا نامزد نمائندہ میدان میں آ سکے گا، جبکہ لیگ سائیڈ وائیڈ سے متعلق آزمائشی قانون کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں مستقل کر دیا گیا ہے۔
اوور تھرو سے متعلق قانون کا ابہام دور کرتے ہوئے وضاحت کی گئی ہے کہ اسٹمپس کی جانب رنز روکنے یا رن آؤٹ کی کوشش میں گیند پھینکنے کو اوور تھرو تصور کیا جائے گا، جبکہ گیند روکنے یا دوسرے فیلڈر کو منتقل کرنے کی کوشش میں مس فیلڈ کو اوور تھرو نہیں سمجھا جائے گا۔
گیند کے ’فائنلی سیٹلڈ‘ ہونے کے تعین کا اختیار امپائرز کو مزید دے دیا گیا ہے جس کے لیے گیند کا بولر یا وکٹ کیپر کے ہاتھ میں ہونا لازمی نہیں ہوگا۔ رن آؤٹ یا اسٹمپنگ کے لیے فیلڈر کا گیند پر مکمل کنٹرول ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے، صرف ہاتھ سے گیند چھونے اور اسی دوران اسٹمپس گرنے کو مکمل کنٹرول تصور نہیں کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مردوں، خواتین اور جونیئر کرکٹ کے لیے گیند کے سائز اور وزن کی الگ الگ واضح حدود مقرر کر دی گئی ہیں۔