’سنجے دت کو پاکستان میں شانتی ملے گی‘: ’منا بھائی‘ کا شو میں خطاب جس پر تنقید کے بعد وضاحت جاری کرنا پڑی

بالی وڈ اداکار سنجے دت کی جانب سے شیکھر سمن کے شو ’شیکھر ٹونائٹ‘ میں انڈیا کی موجودہ حالت پر دیا جانے والا ایک بیان خبروں کی زینت بن چکا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ وہ انڈیا میں ’پہلے جیسا امن‘ محسوس نہیں کرتے۔

بالی وڈ اداکار سنجے دت کی جانب سے شیکھر سمن کے شو ’شیکھر ٹونائٹ‘ میں انڈیا کی موجودہ حالت پر دیا جانے والا ایک بیان خبروں کی زینت بن چکا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ وہ انڈیا میں ’پہلے جیسا امن‘ محسوس نہیں کرتے۔

اسی شو کے دوران سنجے دت کو جب یہ کہا گیا کہ وہ خود کو وزیراعظم سمجھ کر خطاب کریں تو انھوں نے منا بھائی کے انداز میں کہا کہ اگر وہ وزیراعظم بنے تو ملک میں رہیں گے۔

یہ پروگرام موہن داس کرم چند گاندھی کے یوم پیدائش کی مناسبت سے کیا گیا تھا جس کے دوران سنجے دت کی جانب سے کیے جانے والے تبصروں کا سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہو رہا ہے۔

بہت سے لوگوں نے ان کے بیان کو مودی حکومت پر تنقید کے طور پر بھی دیکھا۔ بی جے پی مہاراشٹرا کے مقامی رہنما پرینے فوک نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’اگر سنجے دت کو انڈیا میں شانتی نہیں ملتی تو پاکستان یا جیل میں شانتی ملے گی۔‘

اس بحث کے بعد سنجے دت نے فیس بک پر وضاحت بھی جاری کی۔ تاہم اس سے پہلے جانتے ہیں کہ یہ معاملہ کیا ہے اور سنجے دت نے شو میں کیا کہا تھا؟

’وزیراعظم بنا تو ملک میں رہوں گا‘

جیسے ہی سنجے دت شیکھر سمن کے شو میں بولنے کے لیے کھڑے ہوئے، انھوں نے مائیک چیک کیا اور کہا ’چل ریلا ہے، چلو دیش میں کچھ تو چل ریلا ہے (یہ چل رہا ہے، چلو، ملک میں کچھ ہو رہا ہے)۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم بننے کے بعد ملک کے عوام کے درمیان رہیں گے اور جشن منانے بیرون ملک نہیں جائیں گے۔

سنجے دت نے کہا ’میرے پیارے ہم وطنو، آج میں آپ کا وزیراعظم بن کر بہت خوش ہوں، یہ اتنا بڑا ملک ہے اور یہاں بہت سے لوگ ہیں۔ لیکن آپ لوگوں کو بالکل فکر نہیں کرنی چاہیے۔ میں یہ خوشی منانے کے لیے بیرون ملک نہیں جا رہا، میں صرف یہیں رہوں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ملک میں رہنے سے ہی وزیراعظم اور عوام کے درمیان براہ راست رابطہ قائم ہوگا۔ اس لیے ہماری حکومت بنیادی طور پر بھائی چارے پر توجہ دے گی۔‘

’گاندھی جی کا چوتھا بندر‘ اور ٹرمپ کو مشورہ

مہاتما گاندھی کے تین بندروں کا تذکرہ کرتے ہوئے سنجے دت نے کہا کہ ’آج ہمیں چوتھے بندر کی ضرورت ہے، جو برائی دیکھے تو اسے درست کرے۔ برائیوں کو درست نہ کیا گیا تو ملک کیسے چلے گا؟‘

انھوں نے کہا کہ اگر کسی کو کچھ غلط نظر آئے تو اسے درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’اگر لوگ آنکھیں، کان اور منھ بند رکھیں گے تو ملک کیسے چلے گا۔‘

سنجے دت نے اپنی تقریر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا ’میں انکل ٹرمپ سے ملنے امریکہ جاؤں گا، انکل ٹرمپ تھوڑا گمراہ ہو گئے ہیں، میں اسے سمجھاؤں گا۔‘

سنجے دت نے کہا کہ اگر وہ وزیر اعظم بنے تو ٹرمپ کو کہیں گے ’انکل، سب پر حملہ نہ کرو، دنیا کو برباد نہ کرو، اگر تم ایک ملک پر حملہ کرو گے تو دوسرا ملک دوسرے پر حملہ کرے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اتنی لڑائی کے بعد امن کہاں سے آئے گا؟ بٹن دبانے سے 10 منٹ میں امن نہیں آئے گا۔ امن محبت سے آتا ہے اور محبت گاندھی گیری سے آتی ہے۔ انکل ٹرمپ کو تھوڑی گاندھی گیری سکھانی پڑے گی۔‘

سنجے دت نے کہا ’میں کہوں گا، ٹرمپ انکل دیکھیں، دنیا میں پہلے ہی کافی میزائل موجود ہیں اور اب محبت کو ایکسپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر کسی کو میزائل بھیجنا اچھا لگتا ہے تو پہلے اسے گلدستہ بھیجنا چاہیے۔

سنجے دت کی وضاحت

سوشل میڈیا پر سنجے دت کے اس خطاب پر تنقید ہوئی تو انھوں نے فیس بک پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تبصرے سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھے گئے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا مقصد کسی فرد، برادری یا تنظیم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا، ان کی توہین کرنا یا ان کی بے عزتی کرنا نہیں تھا۔‘

سنجے دت نے لکھا کہ ’میرے تبصرے ایک سکرپٹڈ گفتگو کے تناظر میں کیے گئے تھے جس کا مقصد ہلکا پھلکا مزاحیہ ہونا تھا۔‘

’ان کے پیچھے سوچ ’منا بھائی‘ جیسی فلموں میں دکھائے گئے مزاح اور طنز کے انداز سے ملتی جلتی تھی، خاص طور پر گاندھی گیری کے خیال سے متاثر، جس کا مقصد محبت، یکجہتی اور خیر سگالی کا پیغام دینا تھا۔ بدقسمتی سے، میرے ریمارکس کی اصل سیاق و سباق سے مختلف تشریح کی گئی۔‘

سوشل میڈیا پر لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟

شیکھر سمن کے شو میں سنجے دت کے ان مضحکہ خیز تبصروں کو لے کر سوشل میڈیا پر کافی بحث ہو رہی ہے۔

گگن چودھری نامی صارف نے سوال کیا کہ ’کیا سنجے دت کے غیر ملکی دوروں، بھائی چارے اور پوسٹر لگانے پر تبصرہ پی ایم مودی کے بارے میں ہے‘

امیت کمار نے لکھا ’سنجے دت کس طرح کے امن کی بات کر رہے ہیں؟‘

سچن ورما نامی ایک صارف نے X پر لکھا ’سنجے دت نے پانچ منٹ کے لیے خود کو انڈیا کا وزیراعظم سمجھا اور منا بھائی کے انداز میں پیغام دیا۔‘

اداکار کمال خان نے ایکس پر لکھا ’سنجے دت میں یہ کہنے کی ہمت تھی کہ وہ انڈیا میں امن محسوس نہیں کرتے۔‘

جبکہ دلیپ انجانا نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’سنجے دت وہی پرانا امن چاہتے ہیں جہاں وہ اپنے گھر میں ہتھیار رکھ سکیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US