اخبار میں لپٹی کھانے کی اشیا ہماری صحت کے لیے کتنی خطرناک ہو سکتی ہیں؟

اخبار میں لپٹے سموسے، پکوڑے یا دیگر کھانے کی اشیا استعمال کرنے سے ان کاغذوں پر لگی سیاہی میں موجود مضر کیمیکلز جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، جبکہ بچوں اور حاملہ خواتین کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔

بہت سے لوگ کھانے پینے کی چیزیں اخبار میں لپیٹتے ہیں، جبکہ کئی جگہوں پر سموسے اور پکوڑے بھی اکثر اخبار پر ہی رکھ کر دیے جاتے ہیں۔ بعض دکاندار سموسوں اور دیگر تلی ہوئی اشیا کو اخبار یا کاغذ کی ردی میں لپیٹ کر بھی آپ کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔

پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں سموسے، پکوڑے اور اسی طرح کی دیگر تلی ہوئی اشیا پارسل کرنے کے لیے اخبار کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اخبار میں لپٹے یہ سموسے اور پکوڑے بعد میں پلاسٹک کے تھیلوں میں ڈال کر آپ کو تھما دیے جاتے ہیں۔

حال ہی میں فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے گلی محلوں اور بازاروں میں کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے ہوٹلوں اور ٹھیلوں کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔

ایف ایس ایس اے آئی نے کہا ہے کہ سموسوں اور پکوڑوں جیسی کھانے کی اشیا کو اخبار یا کسی دوسرے ایسے کاغذ میں لپیٹنا صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جس پر کُچھ پرنٹ ہوا ہو۔

اتھارٹی کے مطابق کاغذ پر چھپائی کے لیے استعمال ہونے والی سیاہی میں کیمیکلز کے علاوہ سیسے جیسی مضر اشیا بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

جب گرم سموسے یا دیگر گرم غذائی اشیا ایسے کاغذ پر رکھی جاتی ہیں تو یہ چھپائی میں استعمال ہونے والے یہ کیمیکلز کھانے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یوں یہ کھانے کے ساتھ معدے میں پہنچ کر بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

بی بی سی نے اس بارے میں مزید معلومات کے لیے چند ماہرینِ صحت سے بات کی ہے۔

یاد رہے کہ ایف ایس ایس اے آئی کے فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز یعنی پیکیجنگ رولز 2018 کے مطابق کھانا محفوظ کرنے یا پیش کرنے کے لیے اخبار یا اس طرح کی کسی بھی دوسری چیز کا استعمال ممنوع ہے۔

اخبار کو کن کاموں کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے؟

  • کھانے سے اضافی تیل جذب کرنے کے لیے
  • کھانا پکانے میں استعمال ہونے والی اشیا یا اجزا کو ڈھانپنے کے لیے
  • کھانا پیش کرنے کے لیے
  • کھانا پیک کرنے کے لیے

بی بی سی نے گرم سموسے یا اخبار پر رکھی گئی دیگر کھانے کی اشیا کے استعمال سے لاحق ہونے والے خطرات کے بارے میں کرنول میڈیکل کالج کے ڈاکٹر شیام پرساد سے بات کی۔ ڈاکٹر شیام پرساد سونولوجسٹ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی اگر جسم میں داخل ہو جائے تو کیا ہو سکتا ہے، اس سے صحت کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کے جسم کے اندرونی اعضا پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شیام پرسا کہتے ہیں کہ ’چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں سیسہ نامی ایک دھات شامل ہوتی ہے۔ یہ کھانے کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر جگر کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

یہ خون میں شامل ہو کر جسم کے دوسرے حصوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں یہ دماغ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

بہت سی خواتین گھر میں روٹی یا پوری بنانے کے بعد انھیں پرانے اخبار پر رکھ دیتی ہیں۔ اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے؟

اس کا جواب دیتے ہوئے شیام پرشاد کا کہنا تھا کہ ’اس عادت کا اثر بالغ افراد کے مقابلے میں بچوں پر زیادہ پڑ سکتا ہے۔‘

’اس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ بچوں کے جسم کے مختلف اعضا ابھی مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتے، اس لیے ان پر اس کا اثر زیادہ ہو سکتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حاملہ خواتین کو چھپے ہوئے کاغذ میں لپٹا ہوا کھانا بالکل نہیں کھانا چاہیے۔ یہ ان کے لیے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔

’اگر بچے کی نشوونما کے ابتدائی مراحل میں یہ کیمیکلز حاملہ خاتون کے جسم میں داخل ہو جائیں تو اس سے حمل ضائع ہونے، ذہنی معذوری کے ساتھ بچے کی پیدائش یا مردہ بچے کی پیدائش کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے حاملہ خواتین کو اس معاملے میں خاص احتیاط کرنی چاہیے۔‘

صرف فوڈ گریڈ پیکیجنگ استعمال کرنے کی ہدایت

فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا نے کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے کاروباری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو کھانا فروخت یا فراہم کرتے وقت صرف محفوظ اور سرکاری طور پر منظور شدہ فوڈ گریڈ پیکیجنگ استعمال کی جائے۔

ایف ایس ایس اے آئی نے صارفین کو بھی اس معاملے میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

قواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کھانا رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے کاغذ، کاغذ سے بنے ڈبے، پلیٹیں اور کپ تیار کرنے میں ایسے مواد کا استعمال ہونا چاہیے جو فوڈ گریڈ معیار کے مطابق ہو۔ ان مواد میں کسی قسم کے مضر یا بیماری کا سبب بننے والے اجزا شامل نہیں ہونے چاہییں۔

اخبار کی چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں مختلف کیمیکلز، رنگ، منرل آئل ہائیڈروکاربن، بھاری دھاتیں اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں۔

جب گرم سموسہ یا کوئی دوسری کھانے کی چیز اخبار پر رکھی جاتی ہے تو حرارت کے باعث سیاہی میں موجود کیمیکلز کے کھانے میں شامل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کھانا کھانے سے یہ کیمیکلز جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور صحت کے مختلف مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شیام پرساد کہتے ہیں کہ ’اخبارات کئی لوگوں کے ہاتھوں سے گزرتے ہیں اور مختلف جگہوں سے آتے ہیں۔ اس وجہ سے ان پر گرد، جراثیم اور دیگر گندگی جمع ہونے کا امکان رہتا ہے۔ ایسے اخبار میں رکھا ہوا کھانا کھانے سے لوگ بیمار ہو سکتے ہیں۔‘

کچھ لوگ گھر میں بھی تلی ہوئی یا دیگر چکنی اشیا رکھنے اور پیک کرنے کے لیے اخبار استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گھر میں بھی کھانا اخبار میں نہیں رکھنا چاہیے اور نہ ہی اخبار پر رکھ کر تلی ہوئی اشیا کھانی چاہییں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سموسے یا دیگر کھانے کی اشیا سٹین لیس سٹیل کے برتن، خشک پتوں یا شیشے کے برتنوں میں پیش کرنا زیادہ بہتر ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US