پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال اور مسلح افراد کی موجودگی سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں بعض افراد کو اسلحے کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تصاویر میں موجود ایک مسلح شخص کی شناخت مبینہ طور پر گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے شہیداللہ عرف غازی کے نام سے کی گئی ہے۔
انٹیلی جنس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص مکین کا رہائشی ہے اور ماضی میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ دیگر مشتبہ افراد کی شناخت کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب لانگ مارچ کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے تھے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ستمبر میں پی ٹی آئی کے مجوزہ اسلام آباد مارچ سے متعلق اپنے تفصیلی فیصلے میں صوبائی حکومتوں کو سیاسی احتجاج یا مارچ کے لیے سرکاری فنڈز، گاڑیوں، مشینری اور دیگر ریاستی وسائل استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے پرامن احتجاج کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس حق کا استعمال قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
لانگ مارچ میں مسلح افراد سے متعلق سامنے آنے والے دعووں پر پی ٹی آئی کا مؤقف اس فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں ہے، اس لیے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی ضروری ہے۔