جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی مکمل کرلی ہے اور وہ اپنی حتمی رپورٹ 15 اکتوبر تک وزیرِ اعلیٰ سندھ کو پیش کرے گا۔
24 اگست کو قائم کیے جانے والے اس کمیشن نے 27 اگست سے کام کا باقاعدہ آغاز کیا اور محکمۂ داخلہ سندھ کی ہدایت کے مطابق ایک ماہ کی مدت کے دوران جائے وقوع کے دورے سمیت مجموعی طور پر 15 اجلاس منعقد کیے۔
کارروائی کے دوران سی پی ایل سی کے نمائندے نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کا انٹرنیٹ واقعے والے دن 4 بج کر 25 منٹ تک آن تھا اور ان کے فون پر 4 بج کر 10 منٹ سے 4 بج کر 20 منٹ کے درمیان نقشہ (میپ) استعمال کیا گیا تھا۔ 4 بج کر 7 منٹ پر ان کا آن لائن ٹیکسی ڈرائیور سے بھی رابطہ ہوا تھا، تاہم کال ریکارڈ میں کوئی آؤٹ گوئنگ یا انٹرنیٹ کالنگ کی ہسٹری موجود نہیں اور جیو فینسنگ میں بھی کوئی مشکوک سرگرمی سامنے نہیں آئی۔ آئی پی ایڈریسز کے ذریعے استعمال شدہ نمبر کا سراغ لگانے کے لیے این سی سی آئی اے اور ایپل کو خطوط ارسال کردیے گئے ہیں۔
سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق وکیل جبران ناصر کے سوال کے جواب میں نمائندے نے وضاحت کی کہ گلستانِ جوہر بلاک 1 سے 4 میں سی پی ایل سی کے اپنے کیمرے نصب ہیں، جن میں سے میر رضا صرف 3 کیمروں کی ویڈیو میں نظر آئے جبکہ واقعہ کیمروں کی کوریج کی حدود سے تھوڑا باہر پیش آیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فوٹیج میں گاڑیوں کے نمبر واضح نہیں ہوسکے، تاہم موبائل فون پر حاصل شدہ سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں۔