پاکستان تحریک انصاف کا 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا احتجاجی لانگ مارچ ضلع خیبر سے پشاور میں داخل ہوگیا ہے جہاں مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے قافلے نے چارسدہ اور پھر صوابی کی جانب بڑھنا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ مارچ کے صوابی پہنچنے پر جماعت کی اگلی سیاسی حکمت عملی سامنے لائی جائے گی جبکہ وفاقی حکومت نے ان کے حالیہ بیانات اور اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مارچ کے شرکا دوپہر 12 بجے حیات آباد ٹول پلازہ سے روانہ ہوں گے اور بھانہ ماڑی چونگی، کوہاٹی چوک، جمیل چوک، پیرزکوڑی پل اور کبوتر چوک سے ہوتے ہوئے رات تقریباً ساڑھے 8 سے 9 بجے تک چارسدہ روڈ پہنچیں گے۔ قافلہ رات وہاں قیام کرنے کے بعد اگلی صبح ضلع چارسدہ کی طرف سفر جاری رکھے گا۔
احتجاجی سرگرمیوں کے باعث پشاور میں معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کئی نجی اسکولوں نے احتیاطی طور پر تعطیل کا فیصلہ کرتے ہوئے والدین کو پہلے ہی آگاہ کردیا ہے تاہم سرکاری تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ شہر کے بعض علاقوں میں موبائل فون سروس میں خلل کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، لیکن متعلقہ حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
ضلع خیبر کے باڑہ بازار میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف ہر مرحلے پر حالات کے مطابق اپنے فیصلے کرے گی۔ ان کے مطابق صوابی میں ہونے والا اجتماع آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگلے اقدامات ابھی ظاہر نہیں کیے جارہے اور جماعت اپنی جدوجہد کو نئے انداز سے آگے بڑھائے گی۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ احتجاج کا مقصد اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ہے اور مارچ کے شرکا قانون کے دائرے میں رہیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کسی قسم کی غیر آئینی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور احتجاج پرامن رکھا جائے گا۔
تحریک انصاف کے مطالبات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے مناسب طبی سہولتوں کی فراہمی، اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کی اجازت، زیر سماعت مقدمات کے جلد فیصلے اور خیبر پختونخوا میں امن و امان بہتر بنانے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان مشترکہ سیکیورٹی حکمت عملی کی تشکیل شامل ہے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا رویہ ایسے حالات پیدا کرسکتا ہے جن میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ زیر غور آئے تاہم وفاق اس قسم کا قدم اٹھانے کا خواہش مند نہیں۔
طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی پر وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق انسداد دہشت گردی سے متعلق حکومتی اقدامات میں عدم تعاون کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں اور اگر صوبے میں غیر معمولی انتظامی اقدامات کی ضرورت پیش آئی تو اس کی ذمہ داری صوبائی قیادت پر ہوگی۔
لانگ مارچ کے اگلے مراحل اور صوابی میں متوقع اعلان کے باعث سیاسی صورتحال اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف اپنے مطالبات کے لیے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت صوبائی قیادت کے طرز عمل پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں مارچ کے اگلے فیصلے اور دونوں حکومتوں کا ردعمل صورتحال کا رخ واضح کریں گے۔