8 اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کو 21 سال مکمل، ہزاروں جانیں گنوانے کے باوجود بحالی کے کئی منصوبے ادھورے

image

پاکستان کی تاریخ کے المناک ترین قدرتی سانحات میں شمار ہونے والے 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کو آج 21 برس مکمل ہوگئے لیکن اس تباہی کی یادیں آج بھی متاثرہ خاندانوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اس ہولناک حادثے میں تقریباً 80 ہزار افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے جبکہ لاکھوں شہری اپنے گھروں اور روزگار سے محروم ہوگئے۔

21 سال قبل 8 اکتوبر کی صبح 8 بج کر 50 منٹ پر آنے والے 7.6 شدت کے زلزلے نے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ چند ہی لمحوں میں رہائشی عمارتیں، تعلیمی ادارے، اسپتال اور اہم سڑکیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، بالاکوٹ اور مانسہرہ سمیت کئی علاقے شدید متاثر ہوئے۔

اس قدرتی آفت میں ہزاروں خاندان اجڑ گئے بڑی تعداد میں بچے والدین کی شفقت سے محروم ہوئے اور کئی افراد زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار ہوگئے۔ زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں پاک فوج، مقامی رضاکاروں اور عالمی تنظیموں نے حصہ لیا جبکہ متاثرین کو عارضی رہائش، خوراک اور طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے۔

سانحے کے بعد متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو اور بحالی کے لیے مختلف منصوبوں کا آغاز کیا گیا جن میں رہائشی مکانات، اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی سہولتوں کی بحالی شامل تھی۔ تاہم دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود کئی اہم منصوبے اپنی تکمیل کے منتظر ہیں۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق ہزارہ ڈویژن میں زلزلے کے بعد شروع کیے گئے بحالی کے تقریباً 23 فیصد منصوبے اب بھی نامکمل ہیں۔ اسی طرح بالاکوٹ کے متاثرین کی محفوظ مقام پر منتقلی کے لیے شروع کیا گیا نیو بالاکوٹ سٹی منصوبہ بھی 21 برس بعد مکمل نہیں ہوسکا، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں کی مستقل آبادکاری کا مسئلہ برقرار ہے۔

ہر سال 8 اکتوبر کو اس سانحے میں جانیں گنوانے والوں کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے۔ یہ دن نہ صرف ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی، محفوظ تعمیرات اور مستقبل میں ایسے حادثات سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US