سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ نے جیل میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس وقت وہاں تقریباً 8 ہزار قیدی موجود ہیں، جو انتظامیہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا جائزہ لے رہی ہے اور اسلام آباد میں نئی جیل کی تعمیر مکمل ہونے سے اڈیالہ جیل پر قیدیوں کا بوجھ نصف تک کم ہو جائے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاتا اور جوڈیشل افسران باقاعدگی سے جیل کا معائنہ کرتے ہیں۔
طبی سہولیات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جیل میں چھ مرد اور ایک خاتون ڈاکٹر تعینات ہیں جبکہ ای سی جی، الٹراساؤنڈ، ڈینٹل اور دیگر ایسی سہولیات میسر ہیں جو شاید قیدیوں کو باہر بھی دستیاب نہ ہوں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جیل میں ایچ آئی وی کے تقریباً 100 کیسز موجود ہیں، جن میں سے اکثر قیدی یہ بیماری جیل میں آنے سے پہلے ہی ساتھ لاتے ہیں۔