ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر 2 اکتوبر کو ہونے والے حملے کو سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے تقدس کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ پاکستان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل نے شرکت کی۔ اجلاس میں علاقائی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد دفاع کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا اور اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کی سلامتی ایک دوسرے کی سلامتی سے منسلک ہے، جبکہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی پر پاکستان کے تحفظات واضح طور پر پیش کیے گئے۔ افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
غزہ کی صورتحال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے تنازع کے خاتمے اور قابل اعتماد سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پاکستان غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 پر مکمل عمل درآمد پر زور دیتا ہے۔
ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کے ساتھ قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ فلسطینی عوام کو 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست ملنی چاہیے۔