قومی اسمبلی میں پیش کی گئی وزارت صحت اور 'گلوبل برڈن آف اسٹڈیز' کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے 3 لاکھ افراد شامل ہیں۔
ملک میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں رجسٹرڈ ماہرین نفسیات کی کل تعداد محض 1,050 ہے، یعنی اوسطاً 2 لاکھ 45 ہزار 400 شہریوں کے لیے فقط ایک ماہر نفسیات میسر ہے۔
صوبائی سطح پر پنجاب میں 406، سندھ میں 228، خیبر پختونخوا میں 122 اور بلوچستان میں صرف 44 ماہرین نفسیات خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مزید برآں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایڈز کے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 3,900 ہوچکی ہے، جن میں سب سے زیادہ 1,915 کیسز سندھ اور 1,765 کیسز پنجاب سے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں 139، بلوچستان میں 46، اسلام آباد میں 30، آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں ایڈز کا ایک مریض سامنے آیا ہے۔