دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے بھارتی ارب پتی مکیش امبانی پر ایسا طنز کیا کہ مودی حکومت کو بھی وضاحت دینا پڑگئی۔ مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "محترم وزیراعظم امبانی! مجھے معاف کیجیے گا، مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ بھارت کے اصل مالک آپ ہیں۔ ظاہر ہے آپ بھارتی عوام کا استحصال کرکے اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں، لیکن کیا آپ اسٹار لنک کو بھی مقابلہ کرنے کی اجازت دیں گے؟" مسک نے مزید کہا کہ بھارت کے کئی علاقوں میں آج بھی انٹرنیٹ دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے بچے تعلیم اور چھوٹے کاروباری افراد عالمی منڈی تک رسائی سے محروم ہیں، جبکہ اسٹار لنک ان کی زندگیاں بدل سکتا ہے۔
دراصل ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے، جس کے لیے موبائل ٹاورز یا انٹرنیٹ کی تاروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مسک کافی عرصے سے بھارت میں یہ سروس شروع کرنا چاہتے ہیں، لیکن تمام ضروری منظوریوں کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ان کا الزام ہے کہ بھارت کے چند طاقتور کاروباری افراد اپنی کمائی اور مارکیٹ پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اسٹار لنک کا راستہ روک رہے ہیں۔ اسی معاملے پر انہوں نے مکیش امبانی کو نشانہ بنایا، جن کی کمپنی ریلائنس جیو بھارت میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہے۔
ایلون مسک کے بیان کے بعد بھارتی حکومت کو باقاعدہ وضاحت جاری کرنا پڑی۔ وزارت مواصلات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسٹار لنک سمیت تین کمپنیاں اس وقت سیکیورٹی جانچ کے مراحل سے گزر رہی ہیں اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنما راہل گاندھی بھی میدان میں آگئے اور انہوں نے مسک کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا، "آپ کو بھارت میں خوش آمدید!" حیران کن بات یہ ہے کہ مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس جیو نے مارچ 2025 میں خود اسٹار لنک کے ساتھ کاروباری معاہدہ کیا تھا، تاہم مسک کا الزام ہے کہ بعض بڑے صنعتکار ان کی کمپنی کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
ایلون مسک کے اس بیان نے بھارت میں بڑے سرمایہ داروں کے اثر و رسوخ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف مودی حکومت بھارت کو ٹیکنالوجی کی عالمی طاقت بنانے کے دعوے کرتی ہے، تو دوسری طرف دنیا کا ایک بڑا ٹیکنالوجی سرمایہ کار یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ بھارت میں فیصلے حکومت کرتی ہے یا امبانی جیسے ارب پتی؟ اگرچہ اب تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ مکیش امبانی نے اسٹار لنک کی منظوری رکوائی ہے، لیکن **مسک کے طنزیہ بیان نے مودی حکومت کے لیے ایک نیا سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ آخر بھارت کا اصل باس کون ہے؟**