مظفرگڑھ میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں بیٹی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں 9 سال تک انصاف نہ ملنے اور ملزم کی عدالت سے بریت کے بعد دلبرداشتہ والد نے جوڈیشل کمپلیکس کے مرکزی گیٹ کے سامنے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔
ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ شخص کی شناخت اللہ بچایا کے نام سے ہوئی ہے، جس کے جسم کا تقریباً 70 فیصد حصہ جھلس گیا۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں اور شہریوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا۔
پولیس کے مطابق اللہ بچایا کی شادی شدہ بیٹی سے 9 سال قبل شاہجمال میں مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ ملزم تنویر کے خلاف درج تھا۔ ملزم کو گزشتہ روز عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔
اہل علاقہ کے مطابق مقدمے کے باعث متاثرہ خاتون کو طلاق بھی ہو گئی تھی، جبکہ عدالتی فیصلے کے بعد ملزم کے رشتہ داروں کی جانب سے مبینہ جشن منانے پر بھی اللہ بچایا شدید افسردہ تھا۔
واقعے کے بعد متاثرہ شخص کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ واقعے نے انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔