کیپیٹل مارکیٹ کو مزید فعال اور بااثر بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے گا: وفاقی وزیر خزانہ

image

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ کو مزید فعال، مؤثر اور سرمایہ کاروں کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے گا، جبکہ کاروباری اداروں کو طویل مدتی فنانسنگ کی فراہمی کے لیے بینک قرضوں کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ہوگا۔

یہ بات انہوں نے فنانس ڈویژن اسلام آباد میں کیپیٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل (CMDC) کے چوتھے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پاکستان کی کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ کی ترقی، سرمایہ کاروں اور قرض کے اجرا کرنے والے اداروں کی تعداد بڑھانے، مارکیٹ انفراسٹرکچر میں بہتری اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران کارپوریٹ قرضوں کے اجرا کے ذریعے 291 ارب روپے جمع کیے گئے، جبکہ 2025 کے دوران 326 ارب روپے حاصل کیے گئے تھے، جو 2024 کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہیں۔ فروری 2025 سے ستمبر 2026 تک 45.4 ارب روپے مالیت کے 12 نئے کارپوریٹ ڈیٹ انسٹرومنٹس بھی اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ کیے گئے، جس سے صکوک سمیت دیگر مالیاتی ذرائع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔

اجلاس میں نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ کے مجوزہ شریعہ کمپلائنٹ صکوک پروگرام پر بھی غور کیا گیا، جس کا مجموعی حجم 100 ارب روپے تک ہوگا، جبکہ پہلے مرحلے میں 20 ارب روپے تک کے صکوک جاری کرنے کی تجویز ہے۔ ان صکوک کی مدت 10 سال تک ہوگی اور انہیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پبلک آفرنگ کے ذریعے مختلف مرحلوں میں جاری کیا جائے گا، تاہم اس کے لیے متعلقہ منظوریوں اور مارکیٹ کی صورتحال سے مشروط کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ لسٹڈ کارپوریٹ ڈیٹ انسٹرومنٹس کے فروغ سے دیگر اداروں کو بھی سرمایہ مارکیٹ کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے کی ترغیب ملے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ ڈیسک قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں ممکنہ سرمایہ حاصل کرنے والے اداروں کو رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ ون ونڈو لسٹنگ نظام بھی فعال ہے، جبکہ سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی (CDC) کو اس نظام میں شامل کرنے پر کام جاری ہے تاکہ لسٹنگ کے مراحل مزید آسان بنائے جا سکیں۔

اجلاس میں ثانوی مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کو بھی سراہا گیا۔ بریفنگ کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران روزانہ اوسط ٹریڈنگ ویلیو 3.93 ارب روپے تھی، جو مالی سال 2027 میں 15 اکتوبر تک بڑھ کر 10 ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس سلسلے میں 13 بینک بھی ثانوی مارکیٹ ٹریڈنگ کے نظام میں شامل ہو چکے ہیں۔

وزیر خزانہ نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو کیپیٹل مارکیٹ کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی زور دیتے ہوئے SECP کو ہدایت کی کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے عملی اقدامات تیار کیے جائیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ SECP نے 17 پنشن فنڈ مینیجرز اور 44 انشورنس کمپنیوں سے مشاورت کی ہے تاکہ طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مارکیٹ میں شرکت بڑھائی جا سکے۔ اس کے علاوہ ٹیکس، قرضوں کے اجرا، مارکیٹ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سمیت چار شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے SECP اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ایم ایس سی آئی (MSCI) کے ساتھ دوبارہ رابطے کی ہدایت کرتے ہوئے پاکستان کی مستقبل میں ایمرجنگ مارکیٹ کا درجہ حاصل کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لینے پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ رواں ماہ بنکاک، تھائی لینڈ میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ایم ایس سی آئی کی ٹیم سے ان کی مثبت بات چیت ہوئی تھی۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اصلاحات کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے، سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھائی جائے، مارکیٹ میں نقدی کی دستیابی بہتر بنائی جائے اور ملکی بچتوں کو پیداواری سرمایہ کاری کے لیے متحرک کیا جائے۔

اجلاس میں چیئرمین SECP، اسٹیٹ بینک، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، ٹیکس پالیسی آفس اور فنانس ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US