سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں جان کی بازی ہارنے والے پائلٹ کیپٹن حمود علی الکلثمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی السعودیہ سے وابستہ تھے اور 8 اکتوبر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنی معمول کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے کہ اچانک ہوائی اڈہ میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آگیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر دو الگ حملے کیے گئے۔ پہلے حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرے میں زمین پر کھڑا السعودیہ کا طیارہ متاثر ہوا، جس میں اس وقت کوئی مسافر موجود نہیں تھا۔ ان واقعات میں کیپٹن حمود سمیت تین سعودی شہری جاں بحق اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثیوں نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام نے واقعے کی شدید مذمت کی۔
کیپٹن حمود کے انتقال پر السعودیہ نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک محنتی، ذمہ دار اور اپنے پیشے سے مخلص پائلٹ قرار دیا۔ ایئرلائن کے مطابق وہ کسی جنگ یا فوجی کارروائی کا حصہ نہیں تھے، بلکہ ان کا کام مسافروں کو محفوظ طریقے سے ان کی منزل تک پہنچانا تھا۔ کمپنی نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کمی ساتھیوں کو ہمیشہ محسوس ہوگی۔ حملوں کے بعد متاثر ہونے والی فضائی سرگرمیاں بھی 8 اکتوبر کی شام تک بحال کردی گئی تھیں۔
کیپٹن حمود کی نمازِ جنازہ 10 اکتوبر کو نمازِ عصر کے بعد جدہ کی مسجد القریقری میں ادا کی جائے گی، جبکہ 11 اکتوبر کو الخالدیہ کے علاقے میں واقع سعودی ایئرلائنز کلب میں اہلِ خانہ سے تعزیت کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان کے انتقال نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے رکھی ہے کہ جنگ اور حملوں کی قیمت اکثر وہ عام شہری بھی چکاتے ہیں جن کا کسی تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔