غزہ کبھی زندگی سے بھرپور تھا، آج ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے

image

فلسطین کا تاریخی علاقہ غزہ، جہاں کبھی بازاروں میں رونق، سڑکوں پر لوگوں کی چہل پہل اور ساحلوں پر بچوں کی ہنسی سنائی دیتی تھی، آج تباہ شدہ عمارتوں اور بے گھر خاندانوں کے خیموں میں گھرا ہوا ہے۔ تین برس سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے اس علاقے کی شکل بدل دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق غزہ کا تقریباً 80 فیصد حصہ تباہی سے متاثر ہوا ہے، جبکہ صدیوں پرانی عمارتیں اور تاریخی نشانیاں بھی شدید نقصان کی زد میں آئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق غزہ میں تاریخی اہمیت کی 128 عمارتوں، 14 مذہبی مقامات، 9 یادگاروں، 8 آثارِ قدیمہ کے مقامات، 2 عجائب گھروں اور ثقافتی ورثے کے 3 ذخائر کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں تیرہویں صدی کا تاریخی قصر الباشا محل بھی شامل ہے، جسے 2010 میں عجائب گھر بنایا گیا تھا۔ اسی طرح غزہ کی عظیم عمری مسجد، جس کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے، دسمبر 2023 کے حملوں میں بری طرح متاثر ہوئی، جبکہ ساحل کے قریب واقع الحسینا مسجد مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

غزہ کی بندرگاہ، جہاں کبھی ماہی گیر اپنی کشتیاں لے کر آتے تھے، اب بے گھر فلسطینیوں کی عارضی پناہ گاہ بن چکی ہے۔ ساحل کے ساتھ پھیلی الرشید اسٹریٹ پر پہلے دکانیں، ہوٹل اور ریستوران ہوا کرتے تھے، مگر اب اس کے کئی حصے کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ریمال کے علاقے میں واقع رشد الشوا ثقافتی مرکز، جہاں نمائشیں اور مختلف تقریبات منعقد ہوتی تھیں، حملوں میں تباہ ہوگیا۔ اسلامک یونیورسٹی آف غزہ کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور وہاں کے بعض باقی ماندہ حصوں میں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

تباہی صرف تاریخی مقامات اور عمارتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ غزہ کا بنیادی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ 1952 سے کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہنے والا یرموک اسٹیڈیم اب متاثرہ خاندانوں کے خیموں سے بھرا ہوا ہے۔ بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے بنایا گیا شیخ رضوان تالاب نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے کے باعث آلودگی کا شکار ہے، جبکہ بجلی، پانی اور سیوریج کی سہولتیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ غزہ کی یہ تباہی صرف عمارتوں کا نقصان نہیں بلکہ ان مقامات سے جڑی کئی نسلوں کی یادوں، تاریخ اور روزمرہ زندگی کے بکھر جانے کی داستان بھی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US