خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج: وفاقی کابینہ کا مولانا کے ذریعے آخری رابطے کا فیصلہ

image

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ صوبے میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق فیصلے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حتمی اقدام سے قبل مولانا فضل الرحمان کے ذریعے صوبائی حکومت سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کابینہ ارکان کا مؤقف تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کے ساتھ تعاون نہ کرنا تشویش کا باعث ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں تجویز دی گئی کہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مولانا فضل الرحمان کے ذریعے صوبائی حکومت کو تعاون کا پیغام بھیجا جائے۔

اسی سلسلے میں اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق گفتگو میں زور دیا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کا ساتھ دے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے ذریعے صوبائی حکومت کو پیغام بھجوایا ہے کہ اگر صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاق کے ساتھ تعاون کرتی ہے تو مجوزہ فیصلے پر نظرثانی ممکن ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وفاقی کابینہ میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج، دونوں کے نفاذ کے امکانات پر غور کیا گیا ہے۔ شدید بدامنی سے متاثرہ 12 اضلاع کی صورتحال کا ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد الگ سے جائزہ لینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کو نئی ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کا عدالتی چارہ جوئی اور احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی صورت میں عدالتوں سے رجوع کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ پارٹی نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

تاہم کابینہ کے اجلاس میں زیرِ غور تجاویز، آئینی اقدامات اور ان کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلوں کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US