149 پلاٹوں کو ’فتح‘ کر کے خود کو سوئٹزر لینڈ کا بادشاہ قرار دینے والا شخص کون ہے؟

2019 میں 32 سالہ جوناس لاووینر ایک شاندار تقریب میں خود کو بادشاہ قرار دے کر سوئٹزرلینڈ اور یورپ بھر میں دلچسپی کا باعث بن گئے۔
جوناس لاووینر سیاہ اور سنہری فوجی وردی پہنے ہوئے ہیں اور سفید دستانے پہن رکھے ہیں۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے اشارہ کر رہے ہیں اور تصویر کے فریم سے باہر کسی مقام کی جانب نشان دہی کر رہے ہیں
Jonas Lauwiner
جوناس لاووینر نے 2019 میں خود کو سوئٹزرلینڈ کا بادشاہ قرار دیا تھا

سوئٹزر لینڈ اپنے پہاڑوں، بینکنگ نظام، سیاسی استحکام اور دنیا کی مضبوط جمہوریت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ ملک 1291 سے ایک ’جمہوریہ‘ ہے، جہاں سرکاری طور پر بادشاہت کا کوئی تصور موجود نہیں۔

تاہم 2019 میں 32 سالہ جوناس لاووینر ایک شاندار تقریب میں خود کو بادشاہ قرار دے کر سوئٹزرلینڈ اور یورپ بھر میں دلچسپی کا باعث بن گئے۔

تب سے جونس اول کے نام سے جانے جانے والے لاووینر نے 149 مختلف قطعاتِ اراضی کو اپنی ’سلطنت‘ کا حصہ بنا لیا ہے۔ یہ زمینیں سوئٹزرلینڈ کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور مجموعی طور پر تقریباً 117 ہزار مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر زمینیں انھوں نے بغیر کوئی رقم ادا کیے حاصل کیں۔

جوناس کا دعویٰ ہے کہ یہ سب انھوں نے ایک ایسے قانونی اصول کے تحت کیا جو تقریباً دو ہزار سال پرانا ہے۔

برن کینٹن کے قصبے برگڈورف میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ، جسے وہ محل کہتے ہیں، میں بی بی سی نیوز منڈو سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’لوگ مجھے سوئٹزرلینڈ کا بادشاہ کہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ میں ہر صبح اٹھ کر آئینے میں خود کو یہی کہتا ہوں، لیکن لوگ مجھے اسی نام سے جانتے اور پکارتے ہیں۔‘

ان کی اس خودساختہ سلطنت کی بنیاد 2014 میں پڑی، جب وہ 20 برس کے ہوئے۔ اس موقع پر ان کے والد نے انھیں زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تحفے میں دیا۔

جوناس کے مطابق، ’یہ زمین تعمیرات کے لیے نہیں بلکہ صرف زرعی مقاصد کے لیے مختص تھی۔ دراصل یہ ایک علامتی تحفہ تھا تاکہ میں ملکیت رکھنے کے احساس کو سمجھ سکوں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس تجربے نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ ’یہ ایک غیرمعمولی احساس تھا۔‘

جوناس لاووینر سیاہ اور سنہری فوجی وردی پہنے ہوئے ہیں اور سفید دستانے پہن رکھے ہیں۔ ان کے سامنے لکڑی کی میز پر ایک سرخ اور سنہری تاج رکھا ہے۔ وہ بائیں ہاتھ میں تلوار تھامے ہوئے ہیں اور دائیں ہاتھ سے اشارہ کر رہے ہیں۔
Jonas Lauwiner
جوناس لاووینر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پہلے ہی سیاسی اختیار موجود ہے: ’میں اس شہر میں کونسلر ہوں جہاں میں رہتا ہوں‘

جب جوناس لاووینر نے اپنی زمین کے ساتھ ملحقہ مزید قطعات خرید کر اپنی ملکیت بڑھانے کی کوشش کی تو انھیں ایک حیران کن بات معلوم ہوئی۔ ان کی زمین کے برابر میں واقع ایک قطعہ کسی فرد یا ادارے کی ملکیت میں ہی نہیں تھا۔

ابتدا میں وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ ایسی زمین حاصل کرنے کے لیے حکومت سے رجوع کریں یا مقامی بلدیہ سے۔ مزید تحقیق کے دوران انھیں ایک قدیم قانونی اصول کے بارے میں پتا چلا جس کے مطابق بعض حالات میں لاوارث یا بے مالک زمین پر دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔

جوناس لاووینر کے بقول، یہی دریافت ان کی زندگی کا رخ بدلنے کا سبب بنی۔

وہ کہتے ہیں، ’یہ دو ہزار سال سے بھی پرانا قانون ہے۔ اگر آپ کو ایسی زمین مل جائے جس کا کوئی مالک نہ ہو تو آپ اس پر دعویٰ کر سکتے ہیں۔ یہ تصور رومی قانون میں بھی موجود تھا۔ آپ زمین کی نشاندہی کرتے ہیں، اس پر دعویٰ کرتے ہیں اور وہ آپ کی ملکیت بن جاتی ہے۔ مجھے یہ بات انتہائی دلچسپ لگی۔‘

جوناس لاووینر اس تاثر کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ وہ کسی قانونی خامی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ان کے مطابق، ’یہ کوئی قانونی خلا نہیں بلکہ ایک قدیم قانون ہے جو کسی وجہ سے موجود ہے۔ زمین کسی نہ کسی کی ملکیت میں ہونی چاہیے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص اس قانون سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا لے، کیونکہ پھر لوگ ناراض یا حسد کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

تاہم ماہرین قانون اس معاملے کو کچھ زیادہ پیچیدہ قرار دیتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف فریبرگ کے ایمیریٹس پروفیسر پیٹر ہینی کے مطابق یہ طریقہ ’غیر معمولی ضرور ہے، لیکن لازماً غیر قانونی نہیں‘۔ البتہ اس کے قانونی پہلوؤں میں کئی باریک نکات شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سوئس سول کوڈ کے تحت بے مالک زمین بنیادی طور پر اس کینٹن کے اختیار میں آتی ہے جہاں وہ واقع ہو۔ تاہم بعض اقسام کی زمینیں ایسی ہیں جو نجی ملکیت میں نہیں دی جا سکتیں، مثلاً عوامی پانی، گلیشیئر، چشمے، چٹانی علاقے یا دیگر ناقابلِ کاشت اراضی، جب تک اس کے برعکس ثابت نہ ہو جائے۔

پروفیسر ہینی کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے معاملات کی نگرانی اور ضابطہ بندی کون کرے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ کینٹنز کو بے مالک زمینوں کے حصول کے قواعد بنانے کا اختیار حاصل ہے، لیکن ان پر ایسا کرنا لازم نہیں۔ یہی صورتحال بعض قانونی پیچیدگیاں یا خلا پیدا کر سکتی ہے۔

جوناس لاووینر کے مطابق اسی قانونی ابہام نے انھیں مختلف بے مالک قطعات پر دعویٰ کر کے ان کی ملکیت حاصل کرنے کا موقع دیا۔

ان کا طریقۂ کار نسبتاً سادہ ہے۔ وہ جائیداد کے سرکاری ریکارڈ میں ایسی زمینیں تلاش کرتے ہیں جن کا کوئی مالک درج نہ ہو۔ اگر ایسی زمین مل جائے تو وہ متعلقہ بلدیہ کو قبضے یا ملکیت کی درخواست دیتے ہیں۔ بعد ازاں رجسٹریشن اور انتظامی فیس ادا کرنے کے بعد وہ اس زمین کے قانونی مالک بن جاتے ہیں۔

نپولین کی طرح

جوناس لاووینر کے مطابق بے مالک زمینیں حاصل کرنے کے اس غیر معمولی تجربے نے ان میں ایک طرح کا ’بادشاہ ہونے‘ کا احساس پیدا کر دیا۔

وہ کہتے ہیں، ’میں خود کو کسی حد تک نپولین کی طرح محسوس کرتا تھا، کیونکہ میں نے اتنے زیادہ علاقے اور قطعاتِ اراضی اپنے نام کر لیے تھے۔ اور یہ کوئی معمولی زمینیں نہیں تھیں۔ یہ صرف ایسی زرعی اراضی نہیں تھی جہاں ٹماٹر اگائے جاتے ہوں، بلکہ ان میں اہم مقامات بھی شامل تھے، جیسے مکانات، سڑکیں اور دیگر قیمتی زمینیں۔‘

جوناس لاووینر کے بقول سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ وہ ان میں سے متعدد جائیدادیں بغیر خریداری کی قیمت ادا کیے حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کے مطابق یہ عمل انھیں مسلسل یہ احساس دلاتا رہا کہ وہ اپنی ایک الگ ’سلطنت‘ قائم کر رہے ہیں۔

Foto que contiene las dos caras de la moneda, el
Jonas Lauwiner
جوناس لاووینر کی ’سلطنت‘ کی اپنی کرنسی بھی ہے جسے ’ایمپائر ویلر‘ کہا جاتا ہے

جوناس لاووینر کے مطابق اگر وہ یہ زمینیں خریدتے تو ان کی حیثیت محض ایک رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار یا ایجنٹ کی ہوتی، لیکن چونکہ ان کے بقول انھوں نے انھیں ’فتح‘ کیا، اس لیے وہ اس عمل کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’اگر میں یہ سب زمینیں خرید لیتا تو میں صرف ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ ہوتا۔ لیکن میں نے یہ زمینیں نہیں خریدیں، میں نے انھیں ’فتح‘ کیا۔ اسی لیے میرے ذہن میں یہ تصور پیدا ہوا کہ میں دراصل ایک علاقے کو فتح کر رہا ہوں۔‘

جوناس لاووینر کے مطابق اسی سوچ نے انھیں یہ خیال دیا کہ اگر وہ علاقے ’فتح‘ کر رہے ہیں تو پھر بادشاہ کا لقب اختیار کرنا بھی منطقی ہے۔

اسی خیال کے تحت 2019 میں برن کے نیڈیگ چرچ میں ان کی ایک علامتی ’تاج پوشی‘ کی تقریب منعقد ہوئی۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ نے پہلے انھیں ’برگڈورف کا بادشاہ‘ اور پھر ’سوئٹزرلینڈ کا بادشاہ‘ کہنا شروع کر دیا۔

تاہم جوناس لاووینر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا یہ لقب مکمل طور پر علامتی ہے اور اس کے ساتھ کوئی سرکاری یا آئینی اختیار وابستہ نہیں۔

ان کا کہنا ہے، ’سوئٹزرلینڈ کے آئین میں بادشاہ کے کسی منصب کی گنجائش نہیں۔ البتہ میں سیاست میں بھی سرگرم ہوں اور اپنے شہر کی کونسل کا رکن ہوں، اس لیے میرے پاس پہلے ہی کچھ سیاسی کردار موجود ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں، ’یہ ایک علامتی لقب ہے جو اب اس لیے موجود ہے کیونکہ میں نے اسے خود تخلیق کیا ہے، لیکن ظاہر ہے اس کے ساتھ کوئی سیاسی اختیار یا حکومتی طاقت وابستہ نہیں۔‘

’لوگ سمجھتے ہیں کہ میں بُرا آدمی ہوں‘

جوناس لاووینر کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے خود کو بادشاہ قرار دیا اور زمینوں پر دعوے شروع کیے تو ابتدا میں لوگوں نے اس تمام معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

ان کے بقول، ’لوگ اس پر ہنستے تھے۔ انھیں لگتا تھا کہ یہ محض ایک بڑا مذاق ہے۔‘

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ، جب ان کی ملکیت میں مزید زمینیں شامل ہوتی گئیں اور میڈیا میں ان کی شہرت بڑھتی گئی، تو لوگوں کا رویہ بھی تبدیل ہونے لگا۔ ہنسی مذاق کی جگہ تجسس اور بعض حلقوں میں تشویش نے لے لی۔

گذشتہ برس کچھ سوئس مقامی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ جوناس لاووینر اپنی ملکیت میں آنے والی بعض سڑکوں کے استعمال پر فیس یا معاوضہ طلب کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب انھوں نے گوئینزیے کی بلدیہ میں واقع روزن ویگ نامی سڑک پر ملکیت کا دعویٰ حاصل کیا تو مقامی رہائشی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم ہونے لگے۔ اس معاملے پر اخبار لوزرنر زائٹونگ نے رپورٹ کیا کہ جوناس لاووینر نے رہائشیوں اور مقامی انتظامیہ کے سامنے سڑک ’واپس‘ لینے کے لیے تین تجاویز پیش کیں۔

ان کے مطابق پہلا آپشن یہ تھا کہ سڑک کا نام تبدیل کر کے ’لاووینرویگ‘ رکھ دیا جائے۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ اس کے بدلے انھیں مساوی مالیت کی کوئی دوسری زمین دی جائے۔ جبکہ تیسرا آپشن یہ تھا کہ بلدیہ خود یہ سڑک ان سے خرید لے۔

اس واقعے نے جوناس لاووینر کی سرگرمیوں کے بارے میں جاری بحث کو مزید ہوا دی اور یہ سوال اٹھایا کہ بے مالک زمینوں کے حصول سے متعلق قوانین کا عملی اطلاق کہاں تک جا سکتا ہے۔

سبز فوجی وردی میں ملبوس لاووینر جھک کر بیٹھے ہوئے کیمرے کی طرف مسکرا رہے ہیں
Jonas Lauwiner
جوناس لاووینر کا کہنا ہے کہ ان کے بعض حامیوں نے خود کو ایک نجی سکیورٹی "لیجن" کی شکل میں منظم کر لیا ہے

تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے کی سربراہ جینین واپف کے مطابق، جوناس لاووینر نے مذکورہ سڑک کے بدلے 80 ہزار سے 150 ہزار سوئس فرانک جو تقریباً 96 ہزار سے 181 ہزار امریکی ڈالر بنتےہیں تک کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے بقول بلدیہ کے لیے اتنی بڑی رقم ادا کرنا ممکن نہیں تھا۔

واپف نے مقامی اخبار سے گفتگو میں کہا، ’انھوں نے ہمیں بے وقوف بنایا ہے۔‘

تاہم رواں سال مارچ میں جوناس لاووینر نے اعلان کیا کہ وہ اس سڑک کو نیلام کریں گے اور حاصل ہونے والی خالص رقم سوئٹزرلینڈ میں بچوں کے کینسر کے مریضوں کی مدد کرنے والے ادارے کو عطیہ کر دی جائے گی۔ بعد ازاں ایک مقامی رہائشی نے یہ سڑک 8,500 سوئس فرانک جو تقریباً 10,300 امریکی ڈالر بنتے ہیں میں خرید لی۔

تنقید کے جواب میں جوناس لاووینر خود کو ایک ذمہ دار اور نیک نیت شخص قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے، ’میں کسی سے کچھ چھیننے کی کوشش نہیں کرتا۔ نہ میں زمینیں چراتا ہوں اور نہ ہی سڑکوں پر ٹول ٹیکس عائد کرتا ہوں۔ لوگ میری ملکیت میں آنے والی سڑکیں مفت استعمال کرتے ہیں۔‘

البتہ ان کے مطابق سڑکوں کی دیکھ بھال ایک حقیقی خرچ ہے۔

’مجھے ان سڑکوں کی مرمت اور دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے، اور جو لوگ انھیں استعمال کرتے ہیں انھیں ان اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ دنیا بھر کی ریاستیں بھی بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کے لیے ٹیکس وصول کرتی ہیں۔‘

دوسری جانب یونیورسٹی آف فریبرگ کے قانون دان پروفیسر پیٹر ہینی کے مطابق، اگر کوئی شخص قانونی طور پر ایسی زمین کا مالک بن جائے جس کا پہلے کوئی مالک نہیں تھا تو اسے عام مالکان جیسے حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔

ان کے بقول، ’اگر آپ کسی نجی سڑک کے مالک ہیں تو بعض حالات میں اس کے استعمال پر فیس وصول کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔‘

جوناس لاووینر کا اصرار ہے کہ ان کے بارے میں کئی غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ میں سڑکیں بند کر دیتا ہوں یا لوگوں کو تنگ کرتا ہوں، لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو مجھے پسند نہیں کرتے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق مقامی حکام اب قوانین میں تبدیلی کے ذریعے اس طرح کی مزید ملکیتوں کے حصول کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ یہ اقدامات بہت دیر سے کیے جا رہے ہیں۔

’میں تقریباً وہ سب کچھ حاصل کر چکا ہوں جو حاصل کیا جا سکتا تھا۔ ایک لحاظ سے یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ حکام میرے معاملے کے بعد قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔‘

پروفیسر ہینی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ماضی میں قانونی طور پر حاصل کی گئی زمینوں کو واپس لینا آسان نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق، ’اگر یہ تمام معاملات اس وقت نافذ قانون کے مطابق انجام پائے تھے تو بعد میں انہیں کالعدم قرار دینا مشکل ہوگا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکام نے اپنے پاس موجود اختیارات کے باوجود متعلقہ معاملات کو منظم نہیں کیا۔‘

تاہم ان کے نزدیک اصل سوال مستقبل کا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے مختلف کینٹن نئے ضوابط متعارف کرا سکتے ہیں تاکہ بے مالک زمینوں کے حصول کے اس طریقہ کار کے وسیع استعمال کو روکا جا سکے۔

سوئس ماہرینِ قانون خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ فی الحال یہ کوئی عام رجحان نہیں، لیکن اگر مزید لوگ جوناس لاووینر کے نقشِ قدم پر چل پڑے تو یہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

ان کے بقول اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ ملک میں اب بھی ایسی متعدد زمینیں موجود ہوں جن کی ملکیت واضح طور پر درج نہیں اور جن پر مستقبل میں مزید دعوے سامنے آ سکتے ہیں۔

ایک ’مملکت‘ جس کی سرحدیں واضح نہیں

15 ستمبر 1994 کو انٹرلاکن میں پیدا ہونے والے جوناس لاووینر ایک سوئس والد اور مراکشی والدہ کے بیٹے ہیں اور دونوں ممالک کی شہریت رکھتے ہیں۔

وہ اپنے بچپن کو خوشگوار یادوں سے بھرپور قرار دیتے ہیں۔ انٹرلاکن، جو برینز اور تھون جھیلوں کے درمیان واقع ایک مشہور سیاحتی مقام ہے اور چاروں جانب بلند پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، ان کی پرورش کا مرکز رہا۔

جوناس لاووینر کہتے ہیں، ’بچپن گزارنے کے لیے یہ ایک مثالی جگہ تھی اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسا ماحول اور ایسا بچپن نصیب ہوا۔‘

تاہم جوناس لاووینر کی ’سلطنت‘ کا تصور کسی روایتی ریاست یا بادشاہت جیسا نہیں۔ ان کا مقصد نہ کوئی الگ ملک قائم کرنا ہے، نہ ہی سیاسی اقتدار حاصل کرنا۔ ان کے نزدیک یہ زیادہ تر ایک علامتی، سماجی اور قانونی تجربہ ہے، جس کے ذریعے وہ ملکیت، حاکمیت اور ریاست کے تصورات پر سوال اٹھاتے اور لوگوں کو ان پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کی ’بادشاہت‘ روایتی سرحدوں، فوج یا حکومت کے بجائے زمین کی ملکیت، علامتی اختیارات اور عوامی دلچسپی پر قائم ہے۔

جوناس لاووینر اپنے
Jonas Lauwiner

جوناس لاووینر کی خودساختہ ’سلطنت‘ کو کسی بھی ملک یا بین الاقوامی ادارے کی جانب سے تسلیم شدہ ریاست کا درجہ حاصل نہیں۔ نہ اس کی اپنی باقاعدہ حکومت ہے، نہ سرکاری ادارے اور نہ ہی روایتی معنوں میں کوئی قومی کرنسی۔ تاہم اس کے باوجود انھوں نے اپنی ’بادشاہت‘ کی کئی علامتی نشانیاں قائم کر رکھی ہیں۔

وہ اپنی ذاتی کرنسی ’ایمپائر ویلر‘ اور اعزازی تمغوں کا ذکر کرتے ہیں، جو روایتی بادشاہتوں کی علامتی روایات سے مشابہ ہیں۔ جوناس لاووینر کا دعویٰ ہے کہ ان کے حامیوں کا ایک حلقہ بھی موجود ہے، جن میں سے بعض ایک نجی سکیورٹی ’لیجن‘ کی صورت میں منظم ہیں۔

ان کے بقول، ’یہ ایک چھوٹی فوج کی طرح ہے جو میری حفاظت کے لیے موجود ہے، نہ کہ کسی جارحانہ کارروائی کے لیے۔ بہت سے لوگ اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں، لیکن میں سب کو شامل نہیں کر سکتا، کیونکہ میں انھیں خوراک، ملازمت یا تنخواہ فراہم نہیں کر سکتا۔‘

تاہم جوناس لاووینر کا کہنا ہے کہ ان کی اصل ترجیح اپنی زیرِ ملکیت زمینوں کو ’مستحکم‘ اور کارآمد بنانا ہے۔

جوناس لاووینر اپنی روایتی سیاہ وردی پہنے ہوئے ہیں جس کے کنارے سنہری ہیں، اور ان کے ہاتھ میں تلوار ہے۔ پس منظر میں ان کے
Jonas Lauwiner
جوناس لاووینر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زمینوں کو ترقی دینا چاہتے ہیں اور ان سے غیر فعال آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’میں چاہتا ہوں کہ ان علاقوں کو ترقی دوں، ان سے غیر فعال آمدنی حاصل کروں اور ایک خاندان بساؤں۔ میری خواہش ہے کہ دو یا تین بچے ہوں اور میں ان کی اچھی پرورش کروں۔‘

جوناس لاووینر کے مطابق لوگوں کا ان کے بارے میں تاثر ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔

وہ کہتے ہیں، ’صرف اس وجہ سے کہ میں نے بڑی مقدار میں زمین حاصل کی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں برا آدمی ہوں۔ لیکن بہت سے لوگ اسے اسی نظر سے دیکھتے ہیں، شاید اس لیے کہ تاریخ میں بادشاہوں کا کردار اسی طرح کا سمجھا جاتا رہا ہے۔‘

یوں جوناس لاووینر کی کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے قدیم قانونی اصولوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درجنوں بے مالک قطعاتِ اراضی اپنے نام کیے، خود کو علامتی بادشاہ قرار دیا اور ایک ایسی ’سلطنت‘ قائم کر لی جو اگرچہ قانونی طور پر کوئی ریاست نہیں، لیکن اپنے منفرد تصور کے باعث سوئٹزرلینڈ اور یورپ میں خاصی توجہ حاصل کر چکی ہے۔

خود کو ’سوئٹزرلینڈ کا بادشاہ‘ کہلوانے والے جوناس لاووینر اب اپنی توجہ سیاست پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی سیاست میں کردار ادا کرنے کے بعد ان کی نظریں قومی پارلیمان اور ممکنہ طور پر وفاقی کونسل پر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر مجھے پورے ملک کے لیے مؤثر آواز بننا ہے تو قومی سطح پر جانا ہوگا‘۔ تاہم ان کے مطابق فی الحال ان کا شاہی لقب صرف علامتی حیثیت رکھتا ہے۔ ’میں اپنی طرز پر، ایک سوئس شہری کے طور پر، سوئٹزرلینڈ کی نمائندگی کرتا ہوں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US