سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سنیچر 10 اکتوبر اور اتوار 11 اکتوبر کو حوثیوں کی جانب سے کئے گئے حملوں میں مرنے والوں بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان کے شہریوں کی تصدیق ہو گئی ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سنیچر اور اتوار کے روز حوثیوں کے حملوں میں مرنے والوں کا تعلق بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان سے بتایا گیا ہے۔
ان حملوں میں بنگلہ دیش کے دو اور انڈیا کا ایک شہری سنیچر کی شام ہونے والے حملے میں مارے گئے جبکہ اتوار کو ہونے والے حملے میں اب تک ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
رواں ہفتے کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف اہداف پر حملے کیے، جن میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل تھا۔
سنیچر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک بڑا حملہ ہوا جس میں 13 افراد ہلاک اور 308 زخمی ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری بعد میں حوثیوں نے قبول کی۔
اتوار کو اسی ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ کیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق ایک میزائل نما ہتھیار یا پروجیکٹائل ٹرمینل کے قریب آ گرا، جس سے مسافروں کے ایک ہال میں آگ لگ گئی۔ اتوار کے حملے میں کم از کم ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
حملے کے بعد حوثیوں نے اعلان کیا کہ انھوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کنگ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے دمام ایئرپورٹ اور سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ مکہ اور مدینہ شہر کے ہوائی اڈوں کے علاوہ سعودی عرب کے تمام ایئرپورٹس ممکنہ اہداف ہیں۔
ریاض ایئرپورٹ حملوں کے متاثرین میں غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں دو بنگلہ دیشی شہری، محمد نصراللہ بدرپوری اور محمد شاہد احمد، ہلاک ہوئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔
انڈین رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے بھی تصدیق کی کہ حملے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف علی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ان کے اہلِ خانہ کے کئی افراد زخمی ہوئے۔
حملوں کے بعد بعض پروازیں منسوخ کی گئیں، زخمیوں کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ سعودی عرب اور متعدد خلیجی ممالک نے حملوں کی شدید مذمت کی۔
مدرسے کے استاد جو عمرہ کرنے گئے تھے
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر حوثیوں کے میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے دو بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت ہو گئی ہے۔
ڈھاک میں وزارتِ بہبودِ تارکین وطن کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں کومیلا کے ضلع نانگل کوٹ سے تعلق رکھنے والے محمد نصراللہ بدرپوری اور بوگورا کے شاہجہاں پور علاقے کے رہائشی محمد شاہد احمد شامل ہیں۔
وزارت نے بتایا کہ گذشتہ روز سہ پہر تقریباً 3 بج کر 20 منٹ پر کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر ایک میزائل آ گرا۔ اس وقت بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کے مسافر وہاں موجود تھے۔ اس حملے میں دو بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہو گئے۔
نصراللہ بدرپوری کے بہنوئی مولانا محمد ناصر الدین نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ وہ ڈھاکہ کے علاقے کامرانگیر چر میں واقع جامعہ ربیع العلوم مدرسے میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے تھے، جبکہ شاہد احمد سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے۔
ناصر الدین کے مطابق نصراللہ بدرپوری ہفتے کی صبح عمرے کی ادائیگی کے لیے ڈھاکہ سے روانہ ہوئے تھے اور 24 اکتوبر کو وطن واپس آنے والے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ریاض پہنچنے کے بعد ان کا دو گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا اور وہاں سے دوسری پرواز کے ذریعے مکہ جانا تھا۔ وہ پرواز میں سوار ہونے کے لیے قطار میں کھڑے تھے کہ اسی دوران حملہ ہو گیا۔‘
ان کے مطابق نصراللہ بدرپوری جس 45 رکنی عمرہ گروپ کے ساتھ گئے تھے، اس کے 32 افراد حملے میں محفوظ رہے۔
ناصر الدین نے کہا، ’لیکن وہ مارے گئے۔ دوسرے مرنے والے شخص سعودی عرب میں کام کرتے تھے۔ ایک شخص دونوں ٹانگیں کھو بیٹھا جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ نصراللہ بدرپوری کے پسماندگان میں والد، والدہ، اہلیہ اور تین بچے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ سنیچر کے روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی ہلاکت اور متعدد دیگر بنگلہ دیشیوں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کی صبح دی تھی۔
اس حملے کے بعد ہوائی اڈے کی جانب سے جاری اعلانات کے باعث پیر کو ڈھاکہ اور ریاض کے درمیان چلنے والی پانچ پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جن میں بنگلہ دیش بیمان ایئرلائنز کی دو پروازیں بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ شاما عبید نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے چار بنگلہ دیشی شہری مقامی کنگ خالد اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج ہیں۔
انھوں نے کہا: ’ہم ہر زخمی شخص کی شناخت کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی مشن سعودی حکام کے ساتھ مل کر ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے کام کر رہا ہے۔‘
انھوں نے یہ بات وزارتِ خارجہ میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران کہی۔
انڈین شہری ہلاک، خاندان کے دیگر افراد زخمی
10 اکتوبر کو ہونے والے اسی حملے میں ایک انڈین شہری ہلاک اور دس زخمی بھی ہوئے۔
سعودی عرب میں انڈیا کے سفارت خانے نے اتوار کو کہا کہ ’ایک انڈین شہری جو ایک دن پہلے اسی ہوائی اڈے پر حملے میں زخمی ہوا تھا، فوت ہوگیا ہے۔‘
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بتایا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے خاندان کا تعلق حیدرآباد کے علاقے مہدی پٹنم سے ہے۔
اویسی نے ایکس پر لکھا: ’اس حملے میں یوسف صاحب کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ان کے بیٹے کے گھٹنے کا آپریشن جاری ہے۔ ان کا ایک اور بیٹا ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کے پاؤں کی تین انگلیاں کاٹنا پڑی ہیں۔ ان کی بیٹی اور اہلیہ محفوظ ہیں۔ ان کی خالہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ ان کے سر پر چوٹ آئی ہے، لیکن اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔‘
اویسی نے کہا: ’میں ریاض میں یوسف کے بہنوئی کے رابطے میں ہوں۔ ڈپٹی چیف آف مشن (ڈی سی ایم) نے یقین دہانی کرائی ہے کہ خاندان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اپیل کرتے ہوئے کہا: ’خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔‘
اس سے قبل ہلاکت کی تصدیق ہونے سے پہلے اویسی نے ایکس پر لکھا تھا: ’ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں محمد یوسف علی نامی ایک شخص ہلاک ہو گئے۔ ان کی اہلیہ اور دو بچے زخمی ہوئے ہیں۔‘

حوثیوں کے سعودی عرب میں تازہ حملے
- حوثیوں کا دعویٰ: گروپ نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس نے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔
- 11 اکتوبر 2026 (اتوار): کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دوسرا حملہ کیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق ایک پروجیکٹائل مسافروں کے ایک ہال سے ٹکرایا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ اس حملے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
- سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ریاض ایئرپورٹ کے قریب ایک میزائل کو تباہ کیا، جبکہ ایک اور نامعلوم ہتھیار مسافر ہال نمبر 4 سے ٹکرایا۔
- 10 اکتوبر 2026 (سنیچر): ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بڑا حملہ ہوا۔ حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 308 زخمی ہوئے۔ متاثرین میں غیر ملکی شہری بھی شامل تھے، جن میں دو بنگلہ دیشی اور ایک انڈین شہری کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔
- 7 اکتوبر 2026 : سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یمنی سرحد کے قریب جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔
- 6 اور 7 اکتوبر 2026 کی درمیانی شب: سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک جبکہ 36 زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے بتایا ہے کہ منگل اور بدھ یعنیدرمیانی شب دونوں ہوائی اڈوں کی تنصیبات کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ ابھا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں مراکشی اور الجزائر کی شہریت رکھنے والی دو خواتین ہلاک جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل چھ اکتوبر کو حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے سعودی عرب میں تین فوجی کارروائیاں کیں، جن میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، رابغ میں آرامکو کی ایک آئل ریفائنری، ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
- گذشتہ ہفتے: حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے سعودی آرامکو کی ینبع میں واقع تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ سعودی عرب نے کہا کہ اس نے طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل مار گرائے۔
- 29 ستمبر 2026: سعودی عرب نے اعلان کیا کہ حوثیوں نے مدینہ میں واقع طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن کو نشانہ بنایا، جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور متعدد خلیجی ممالک نے حملے کی مذمت کی، جبکہ حوثیوں نے اس الزام کو ’بے بنیاد‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔