وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ کے نتیجے میں ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ کر دنیا کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کے بدلتے منظرنامے پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت دہشت گردی اور انتہاپسندی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان مختلف بین الاقوامی فورمز پر افغان حکام سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں 20 ہزار سے زائد دہشت گرد موجود ہیں، جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 6 ہزار سے زائد دہشت گرد بھی وہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گرد افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں اور وہاں انہیں مختلف نوعیت کی تربیت حاصل کرنے کے مواقع میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں انتہاپسندی اور شدت پسندی کا خاتمہ چاہتا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 40 برس کے دوران تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی مہمان نوازی اور محبت دنیا کے سامنے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام محب وطن ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انہوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔