وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ماضی میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے بارہا درخواست کی گئی کہ وہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرے تاہم درخواست قبول نہیں کی گئی۔ اب وفاق اور صوبائی حکومت ایک پیج پر ہیں۔
پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران بہت اتار چڑھاؤ دیکھے، تاہم اب صوبے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو قیادت کرنا ہوگی جبکہ وفاق امن کے لیے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ خیبر پختونخوا پولیس کو جدید اسلحے کی فراہمی اور اداروں کی استعداد کار بڑھانا ضروری ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ ترقیاتی کاموں پر سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے لیکن سیکیورٹی پر نہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات واضح طور پر نظر آئیں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں آئی جی خیبر پختونخوا، عسکری حکام اور سی ٹی ڈی افسران نے شرکت کی، جہاں سیکیورٹی پلان کا ازسرنو جائزہ لیا گیا اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔