نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان طالبان کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا افغانستان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان حکام نے دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق وعدے پورے نہیں کیے۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی افغانستان میں موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ افغان طالبان دہشت گردوں کو اسلحے سمیت ہر قسم کی امداد فوری بند کریں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے۔ اگر افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تو ایک دن اسے بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا جبکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔