اس حلقے سے جیتنے والے بی جے پی کے نو منتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری نے 13 مئی کو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس بستی کے مسلمانوں نے انھیں ووٹ نہیں دیا ہے۔ اس لیے وہ ان کا کوئی بھی کام نہیں کریں کے اور انھیں سرکاری سہولت بھی نہیں ملے گی۔‘
دو ماہ سے پانی کی بندش کے باعث کولکتہ کی بستی میں مسلمان آبادی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے’بی جے پی والے کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو صاف پانی کا حق نہیں ہے، کیونکہ یہ مسلمان ہیں اور انھوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا۔‘
یہ کہنا ہے انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے رُکن پارلیمان سمیر الاسلام کا جنھوں نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو لکھے گئے خط میں اپیل کی ہے کہ وہ کولکتہ کی ایک مسلم بستی کے باشندوں کو پانی کی سپلائی کی بحالی میں مدد کرے۔
بنگال میں بی جے پی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے دو ماہ پہلے کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی کی پانی کی سپلائی کاٹ دی تھی جس کی وجہ سے بستی کے مکین انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلامکا اپنے خط میں مزید کہنا ہے کہ جیوتی نگر کالونی کی پانی کی سپلائی کاٹنے کا معاملہ بہت سنگین ہے کیونکہ پانی کی سپلائی بی جے پی کی حکومت نے بند کی ہے جو حال ہی میں ریاست میں اقتدار میں آئی ہے۔
’مسلمانوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا ان کا کوئی کام نہیں کروں گا‘
رواں برس ہونے والے انتخابات میں ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس شکست کھا گئی تھی اور ریاست میں پہلی بار بی جے پی اقتدار میں آ گئی تھی۔
اس حلقے سے جیتنے والے بی جے پی کے نو منتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری نے 13 مئی کو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس بستی کے مسلمانوں نے انھیں ووٹ نہیں دیا تھا۔ اس لیے وہ ان کا کوئی بھی کام نہیں کریں کے اور انھیں سرکاری سہولت بھی نہیں ملے گی۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’74 برس میں اس علاقے میں میں پہلا رکن اسمبلی ہوں جسے ایک بھی مسلمان نے ووٹ نہیں دیا ہے۔ جن لوگوں نے مجھے ووٹ دیا ہے ان کا میرے اوپر حق ہے، جن لوگوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا میں ان سے ووٹ مانگنے بھی نہیں گیا تھا۔
’میں بابا بھولے ناتھ ( بھگوان شیو) کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں آئندہ پانچ برس میں ان کا ایک کام نہیں کروں گا۔ میں انھیں ایک بھی سرٹیفیکٹ ایشو نہیں کروں گا۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کیا سوچے گا اور کیا کہے گا۔‘
رتیش تیواری نے مزید کہا کہ ’مودی جی کہتے ہیں کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس۔ میں اسے مانتا ہوں، کیونکہ یہ میرے رہنما نے کہا ہے۔ لیکن وہ اس انتخاب میں ایک لفظ اور بھی جوڑ کر گئے ہیں کہ 'سب کا حساب' بھی ہونا چاہیے۔ً

سمیرالاسلام نے لکھا ہے کہپینے کے پانی کی فراہمی کوئی احسان نہیں ہے۔ یہ زندہ رہنے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے اور اسے بین الاقوامی سطحپر انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
انھوں نے اقوامِ متحدہ کے ادارے سے پانی کی دستیابی میں مدد کی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں انسانی حقوق کے ادارے کے متعلقہ اہلکاروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کو کوئی انتظامی یا میونسپل معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ بلکہ اسے وہ انسانی ہمدردی اور حقوقی انسانی کے فوری تشویش کے ایک معاملے کے طور پر دیکھیں۔‘
سمیر الاسلام نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کولکتہ میں واقعجیوتی نگر کالونی میں تقریبآ پانچ ہزار مسلمان رہتے ہیں۔
’ان میں سے بیشر کا تعلق ورکنگ کلاس سے ہے۔ یہ زیادہ تر غریب ہیں اور یومیہ اجرت پر مختلف فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ غریب بستی ہونے کے سبب پانی کی سپلائی کاٹنے جیسے غیر انسانی معاملے کے خلاف بھی کوئی آواز نہیں اٹھا رہا ہے۔
’میں نے ہر سطح پر حکام سے بات کی، حکومت سے اپیل کی لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔ میں نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست بھی دی، لیکن وہاں بھی معاملے کی ابھی تک سماعت نہیں ہوئی ۔ جب سارے راستے بند ہو گئے تب میں نے اقوام متحدہ سے مدد کے لیے رجوع کیا۔‘
’ایک کلو میٹر دُور سے پانی لانا پڑتا ہے‘
جیوتی نگر کی رہائشی پنکی بی بی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ پانی نہ ہونے کے سبب بشتی کے بشندوں کو انتہائی مشکل حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگ ایک کلو میٹر دور سے پینے کا پانی لے کر آتے ہیں۔ باقی کاموں کے لیے دریا سے پانی لا کر کام چلا رہے ہیں۔ بچوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ سارا وقت پانی کے انتظام میں لگ جاتا ہے۔ ہماری کوئی نہیں سنتا۔‘
ایک اور باشندے شیخمعین الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہاں سے جیتنے والے نئے رکن اسمبلی رتیش تیواری نے کہا تھا کہ مسلمانوں نے انھیں ووٹ نہیں دیا ہے اور وہ ان سے حساب لیں گے۔
ان کے جیتنے کے بعد میونسپلٹی والے ایک رات یہاں آئے۔ انھوں نے کہا کہ وہ پائپ میں کچھکام کر رہے ہیں۔ رات میں انھوں نے پانی کی سپلائی کاٹ دی، تب سے پانی بند ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچے کافی دور سے بالٹی میں پانی لے کر آتے ہیں۔ ہمارے رکن پارلیمان نے بھی ایک ٹینکر کا انتطام کیا ہے، یہاں بہت بری حالت ہے۔
معین الدین نے مزید بتایا کہ قریبہی ایک ہندو بستی ہے لیکن وہاں پانی کی سپلائی مسلسل جاری ہے۔

یہ بستی کولکتہ پورٹ ٹرسٹ کی زمین پر آباد ہے۔ یہاں لوگ پانچ عشروں سے زیادہ عرصے سے رہتے چلے آئے ہیں۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس بستی کے گھروں کی ہر سال رجسٹریشن ہوتی ہے۔
بی جے پی کے اقتدار میں آنے کےبعد میونسپلٹی نے اسے منہدم کرنے کا نوٹس دیا تھا لیکن عدالت کے حکم سے اس کے انہدام کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔
بی بی سی نے مقامی رکن اسمبلی رتیش تیواری سے بھی رابطہ قائم کیا لیکن انھوں نے کہا کہ ’یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے۔‘
کولکتہ کے سینئر صحافی سوبجیت باگجی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سے بی جے پی مغربی بنگال میں آئی ہے تب سے ریاست میں ہندو مسلم کی سیاست بہت شدت اختیار کر گئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مسلمانوں کو جگہ جگہ پریشان کیا جا رہا ہے۔ ان پر حملے ہو رہے ہیں، لیکن ان واقعات کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ شاید آئندہ مہینوں میں حالت بہتر ہو جائیں۔ پانی سے محروم کرنا غیر انسانی ہے۔ لیکن انتظامیہ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ مسلمان میں یہ ڈر پیدا ہو گیا ہے کہ اگر انھوں نے زیادہ آواز اٹھائی تو ان کے لیے سرکاری معاملات میں مشکلیں بڑھ جائیں گی۔
کولکتہ میونسپل کارپوریشن کی ایڈمنسٹریٹر سمتا پانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ جیوتی نگر کالونی سرکاری زمین پر بنی ہوئی ناجائز بستی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر کسی علاقے میں پانی کی سپلائی میں خلل آتا ہے تو میونسپل ٹینکر کے ذریعے اسے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔