کے پی میں ایمرجنسی سے متعلق صدارتی فرمان کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش، بحث جاری

image

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے صدارتی فرمان سے متعلق قرارداد قومی اسمبلی کے اجلاس میں بحث کے لیے پیش کردی گئی ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی قرارداد پیش کی، جسے منظور کرنے کے بعد ایمرجنسی سے متعلق قرارداد ایوان میں رکھی گئی۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں اندرونی خلفشار اور بیرونی دراندازی کی وجہ سے ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ غیر سنجیدہ تھا اور انہوں نے فورسز اور عوام کی شہادتوں کو نظر انداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد 10 روز کے اندر ایوان سے اس کی منظوری حاصل کرنا قانونی تقاضا ہے۔

وزیر قانون نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی قربانیوں کی بدولت علاقے میں امن قائم ہوا تھا، تاہم 2024 تک دہشت گردی کے 2,911 واقعات ہوئے جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے اب تک 3,787 واقعات رونما ہو چکے ہیں، جس کے باعث غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات ضروری ہو گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سزا یافتہ شخص کی رہائی کا واحد قانونی فورم عدالت ہے یا پھر صدر مملکت کے پاس رحم کی اپیل پر اختیار ہوتا ہے، لیکن اس کے برعکس اسلام آباد پر چڑھائی کے اعلانات کیے گئے اور صوبے کو امن و امان کی خراب صورتحال میں چھوڑ کر دورے کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صدر اور وزیر اعظم کی خواہش پر مذاکرات اور مفاہمت کی سنجیدہ کوششیں کیں لیکن دوسری جانب سے بانی کی رہائی اور ملاقاتوں کے مطالبے کو ترجیح دی جاتی رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاست سے زیادہ ریاست عزیز ہے اور ایمرجنسی کا فیصلہ خوشی سے نہیں بلکہ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US