وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنا گھر اسکیم، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) اور زرعی شعبے کو ملک کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں اور بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ ان ترجیحی شعبوں میں مالی وسائل تک رسائی آسان بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہاؤسنگ فنانس، زرعی قرضوں اور ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی میں پیش رفت اور درپیش مسائل کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ سست روی کا شکار بینک اپنی کارکردگی کو فوری طور پر بہتر بنائیں۔
انہوں نے متعلقہ وزارتوں، سیکرٹریز اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی کہ وہ رواں ماہ کے اختتام تک تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کرکے ان اسکیموں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کریں۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت اب تک 448 ارب روپے کے 75 ہزار 198 قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 14 ہزار افراد کو 76 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
رواں سال کے دوران ایک لاکھ 25 ہزار رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے 700 ارب روپے کے قرضے فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ عوامی سہولت کے پیش نظر درخواست پر کارروائی کا دورانیہ کم کرکے 15 کاروباری دن کر دیا گیا ہے جبکہ درکار دستاویزات کی تعداد 25 سے گھٹا کر صرف 5 کر دی گئی ہے۔
زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اب تک 34 لاکھ 55 ہزار افراد کو 1,352 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ جون 2027 تک اس کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والوں کی تعداد 45 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ وزیراعظم نے غیر فعال پاسکو گوداموں اور سائلوز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے اور نجی شعبے کے تعاون سے کسانوں کے لیے ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت میں اضافے کا حکم دیا۔
علاوہ ازیں، ایس ایم ای سیکٹر کے بریفنگ میں بتایا گیا کہ 3 لاکھ 52 ہزار سے زائد کاروباری افراد کو 1,137 ارب روپے کا قرضہ دیا جا چکا ہے، جسے جون 2027 تک بڑھا کر 1,500 ارب روپے کرنے اور 5 لاکھ 75 ہزار کاروباری اداروں تک وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، ریاض حسین پیرزادہ، احد چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر ہارون اختر، مختلف بینکوں کے چیف ایگزیکٹو افسران اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔