وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرنا ایوان کا اختیاراتی حق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو اور وہ بدامنی کی لپیٹ میں ہو تو سیاست کو بالائے طاق رکھ کر ریاست کے مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خیبر پختونخوا میں گزشت چند ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
وزیر قانون نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک خطے میں 3700 سے زائد دہشت گردی کی کارروائیاں رونما ہو چکی ہیں، تاہم اس قدر سنگین اور نازک حالات کے باوجود صوبے میں تاحال کوئی فعال فارنزک لیبارٹری قائم نہیں کی جا سکی۔ اس کے علاوہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا انتظامی و عملی ڈھانچہ بھی غیر مکمل ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تمام تر توجہ انتظامی امور کے بجائے محض سیاست پر مرکوز رہی۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید وضاحت کی کہ اگر کسی صوبے کے امور آئینی اور قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر چلائے جا رہے ہوں تو گورنر کی جانب سے صدر مملکت کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں صدر مملکت نے صورتحال کی مکمل تسلی کرنے کے بعد وزیراعظم کی بھیجی گئی ایڈوائس کو منظور کیا۔