وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے، قومی سلامتی کے اس اہم چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ملک بدستور دہشت گردی کے خطرے سے دوچار ہے اور سکیورٹی اہلکار دہشت گرد حملوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر اتحاد کی ضرورت آج بھی برقرار ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حالیہ مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے معاملے پر بات کرنے سے انکار کیا، حالانکہ دیگر امور پر اتفاق رائے ہوا تھا، جن میں پارٹی بانی سے ملاقاتوں کا معاملہ بھی شامل تھا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنی صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی تھیں اور اس وقت انتخابات ستمبر میں متوقع تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ماضی میں پی ٹی آئی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔
پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے مشیر وزیراعظم نے کہا کہ یہ پارٹی کا تیسرا لانگ مارچ ہے اور ماضی میں بھی پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کبھی یہ نہیں کہا کہ 20 لاکھ افراد کو جمع کرکے وفاقی دارالحکومت پر حملہ کیا جائے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو تصادم کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات حل کرنے چاہییں۔ ان کے مطابق دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔