وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا اور امید تھی کہ یہ عمل نتیجہ خیز ثابت ہوگا، تاہم چوتھے ڈرافٹ کی منظوری وزیراعلیٰ نے افغانستان سے لینی شروع کردی۔
طارق فضل چوہدری نے محمود خان اچکزئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤقف تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا، جبکہ مذاکرات میں ملاقات کا ٹائم فریم اور مستند حل موجود تھا اور اگر اس وقت معاملات طے پا جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اسمبلیوں سے استعفے دیتی ہے تو ان کے 40 ارکان استعفے نہیں دیں گے۔