بلوچستان میں گندم کا بحران سنگین ہوگیا، صوبے کے سرکاری ذخائر میں گندم ختم ہونے کے باعث آٹے کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ذرائع محکمۂ کموڈیٹیز کے مطابق صوبائی کابینہ کی منظوری کے باوجود گندم کی خریداری کا عمل تاحال شروع نہیں ہوسکا۔ کابینہ نے پاسکو سے 5 لاکھ 75 ہزار بوریاں گندم خریدنے کی منظوری دی تھی، تاہم مختلف انتظامی مراحل کے باعث خریداری میں تاخیر ہوئی۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ اور سرکاری گوداموں میں گندم دستیاب نہیں، جبکہ پنجاب اور سندھ سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی کے باعث بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار 260 روپے میں فروخت ہورہا ہے، جس سے شہریوں کو مہنگے آٹے کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔