وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافہ پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز ہیں، جن کے معیشت، غذائی تحفظ، عوامی زندگی اور سرکاری مالی وسائل پر دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری، مؤثر پیش گوئی اور مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سبکدوش چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور نئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل حسن خٹک سے ملاقات کی، جس میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری، موسمیاتی خطرات میں کمی اور قومی سطح پر ان سے مقابلے کی صلاحیت بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے حالیہ سالانہ اجلاسوں کے دوران بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھی موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان پر اس کے اثرات زیر بحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے قومی سطح پر تیاری اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔
ملاقات کے دوران لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے پاکستان کے طویل مدتی موسمیاتی پیش گوئی کے نظام سے متعلق بریفنگ دی، جو آئندہ 12 ماہ تک کے موسمیاتی رجحانات کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیر خزانہ نے پیش گوئیوں کی بنیاد پر بروقت فیصلوں اور مؤثر پیشگی انتباہی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس میں پاکستان محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ اداروں کی قلیل مدتی نگرانی کو طویل مدتی پیش گوئیوں کے ساتھ مربوط کرنے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ خطرات سے دوچار آبادیوں کو بروقت خبردار کرکے جانی و مالی نقصان سے بچاؤ کے اقدامات کیے جا سکیں۔
این ڈی ایم اے کی قیادت نے گلوبل ریزیلینس ہب اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی۔ ان اقدامات کا مقصد پاکستان میں آفات کے بعد ردعمل دینے کے روایتی نظام سے آگے بڑھ کر پیشگی خطرات کی نشاندہی اور ان میں کمی کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کو فروغ دینا ہے۔
وزیر خزانہ نے موسمیاتی سائنس اور پیش گوئی کے شعبوں میں مقامی فنی مہارت پیدا کرنے، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے اور تربیت یافتہ عملے کی دستیابی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے، ان کے اثرات کم کرنے اور آفات کے خطرات کے انتظام کے لیے طویل مدتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی وسائل کے مؤثر استعمال اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے آفات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے مالی وسائل متحرک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ایسے قابل عمل منصوبوں میں سرمایہ کاری پر زور دیا جو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور قابل پیمائش نتائج حاصل کرنے میں مدد دیں۔
وزیر خزانہ نے سبکدوش چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کی خدمات کو سراہا اور نئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل حسن خٹک کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر نیک خواہشات پیش کیں۔
ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مؤثر رابطہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار مالی معاونت کے ذریعے پاکستان میں موسمیاتی خطرات کی پیشگی نشاندہی، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور نقصانات میں کمی کی صلاحیت مزید بہتر بنائی جائے گی، تاکہ انسانی جانوں، روزگار اور ملکی معیشت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔