"میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام بھی کرسکتا ہوں، لیکن اگر انہوں نے کوئی غیر مناسب قانون سازی میرے پاس بھیجی تو اسے ویٹو کردوں گا۔ میں خود انتخابی میدان میں نہیں تھا، اگر میرا نام بیلٹ پیپر پر ہوتا تو ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے۔"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی جماعت کی مایوس کن کارکردگی کے بعد نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کے ساتھ تعاون کا عندیہ دے دیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان کے ہر فیصلے کی حمایت کریں گے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بعض اہم قومی معاملات پر مشترکہ راستہ اختیار کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق امیگریشن جیسے حساس مسئلے پر بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔
انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کمزور کارکردگی پر ٹرمپ نے دلچسپ مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے اپنی جماعت کے پیچھے رہ جانے کی ایک بڑی وجہ خود ان کا انتخابی مقابلے میں شامل نہ ہونا قرار دیا۔ امریکی صدر کے مطابق اگر وہ امیدوار ہوتے تو نتائج مختلف ہوسکتے تھے۔
ٹرمپ نے انتخابی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق کشیدگی کو بھی ریپبلکنز کی مشکلات کا ایک سبب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے باعث پیٹرول کی قیمتوں پر پڑنے والے عارضی اثرات عوام کے لیے پریشانی کا باعث بنے اور ممکن ہے کہ ووٹرز نے اس صورتحال کو پسند نہ کیا ہو۔
دوسری جانب امریکی صدر نے ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم اور کارکردگی کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مخالف جماعت نے بہتر سیاسی حکمتِ عملی اپنائی، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ کانگریس سے آنے والی ایسی تجاویز جو ان کے نزدیک مناسب نہیں ہوں گی، انہیں صدارتی اختیار استعمال کرتے ہوئے مسترد کردیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں انتخابی نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے ٹرمپ نے بعض ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر حیرت کا اظہار بھی کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے حمایت یافتہ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہونے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ انہیں اپنی حمایت پر کوئی افسوس نہیں۔
انتخابی ناکامی کے بعد حکومتی ٹیم میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کابینہ میں ردوبدل کا امکان بھی مسترد کردیا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فی الحال اپنی موجودہ ٹیم کے ساتھ ہی انتظامی معاملات آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد صدر اور کانگریس کے درمیان آئندہ تعلقات خاص اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت ٹرمپ کے قانون سازی کے منصوبوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کی گنجائش بھی باقی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ٹرمپ کی جانب سے سیاسی مخالفین کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش عملی تعاون میں تبدیل ہوتی ہے یا آنے والے دو برس امریکی حکومت اور کانگریس کے درمیان نئے اختلافات کی نذر ہوجاتے ہیں۔