امریکی انتخابات میں ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا، ڈیموکریٹس کی کامیابی سے واشنگٹن کا منظرنامہ بدلنے لگا

image

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو سخت مقابلے کا سامنا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کی اہم نشستوں پر کامیابی نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

انتخابی نتائج سے یہ سوال بھی پیدا ہوگیا ہے کہ کیا ٹرمپ اپنی باقی صدارتی مدت میں پہلے کی طرح حکومتی فیصلے کرسکیں گے یا کانگریس میں مخالف جماعت کا بڑھتا ہوا اثر ان کے لیے مشکلات پیدا کرے گا؟

سامنے آنے والی انتخابی اطلاعات کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ایوانِ نمائندگان میں بھی ریپبلکنز کے زیرِ قبضہ بعض حلقے اپنے نام کیے ہیں۔

فراہم کردہ رپورٹ میں سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹس کی 53 اور ریپبلکنز کی 41 نشستوں کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بالترتیب 213 اور 126 نشستیں بتائی گئی ہیں۔ تاہم مختلف حصوں میں دیے گئے اعداد و شمار ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے، اس لیے حتمی تعداد کی تصدیق ضروری ہے۔

انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے شمالی کیرولائنا خاص اہمیت اختیار کرگیا، جہاں سابق گورنر رائے کوپر نے ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دی۔ جارجیا میں جون اوسوف اپنی نشست بچانے میں کامیاب رہے، جبکہ نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس نے سابق سینیٹر جان سنونو کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ ان نتائج کو ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

ورجینیا، نیو جرسی، میساچوسٹس اور کولوراڈو میں بھی ڈیموکریٹ امیدواروں نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔ دوسری جانب فلوریڈا اور وائیومنگ میں ریپبلکنز نے کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی موجودگی برقرار رکھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف ریاستوں میں ووٹرز کی ترجیحات یکساں نہیں رہیں۔

ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس نے بعض ایسے حلقوں میں کامیابی حاصل کی جو پہلے ریپبلکنز کے پاس تھے۔ شمالی کیرولائنا اور نیو جرسی میں ان کی پیش رفت کو خاص اہمیت دی جارہی ہے۔ تاہم تمام 435 نشستوں کے نتائج سامنے آنے تک ایوان میں طاقت کا مکمل توازن واضح نہیں ہوگا۔

امریکی وسط مدتی انتخابات کی اہمیت صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کون سی جماعت کتنی نشستیں جیتتی ہے۔ یہ انتخابات صدر کی کارکردگی کے بارے میں عوامی سوچ کا اندازہ لگانے کا بھی ایک اہم موقع ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ ووٹنگ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران ہوئی ہے، اس لیے نتائج کو ان کی حکومت کے لیے ایک سیاسی امتحان سمجھا جارہا ہے۔

اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی اور وفاقی بجٹ جیسے معاملات میں زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مخالف جماعت کانگریسی کمیٹیوں کے ذریعے حکومتی فیصلوں کی نگرانی بڑھا سکتی ہے اور اہم عہدیداروں سے مختلف معاملات پر جواب بھی طلب کرسکتی ہے۔

سینیٹ میں اکثریت کی تبدیلی بھی وائٹ ہاؤس کے لیے اہم ہوگی، کیونکہ وفاقی ججوں، سفیروں اور کئی اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی تقرریوں کے لیے سینیٹ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اگر اس ایوان کا کنٹرول مخالف جماعت کے پاس چلا جائے تو صدر کے لیے اپنی پسند کی تقرریاں منظور کرانا مشکل ہوسکتا ہے۔

انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ کے ممکنہ مواخذے کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا حصہ بن سکتا ہے۔ امریکی آئین کے مطابق ایوانِ نمائندگان صدر کے خلاف مواخذے کی منظوری دے سکتا ہے، لیکن انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی ووٹ ضروری ہیں۔ اس لیے صرف ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی سے صدر کی برطرفی ممکن نہیں ہوگی۔

اہم بات یہ ہے کہ کانگریس میں اکثریت بدلنے سے ٹرمپ کی صدارت فوری طور پر ختم نہیں ہوگی۔ وہ اپنی آئینی مدت کے دوران عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں، تاہم قانون سازی، حکومتی اخراجات اور اہم فیصلوں پر انہیں زیادہ سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اب توجہ باقی حلقوں کے نتائج اور کانگریس کی نئی تشکیل پر مرکوز ہے۔ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا کہ ڈیموکریٹس اپنی کامیابیوں کو کس حد تک سیاسی طاقت میں تبدیل کرپاتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ اگلے دو برس میں مخالف جماعت کے ساتھ کس طرح معاملات آگے بڑھاتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US