"مجھے بہت غصہ آتا ہے، اللہ مجھ پر رحم کرے۔ لڑکیاں شادی کرکے اپنے شوہر کے گھر کو اپنا گھر سمجھتی ہیں۔ نریمان نے بھی اپنے سسرال والوں کی دل سے خدمت کی، انہیں کینیڈا بلایا، عزت دی اور ہر طرح سے خیال رکھا، لیکن افسوس کہ علیحدگی کے بعد انہوں نے کبھی یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ نریمان کس حال میں ہے، یہاں تک کہ اپنے پوتے پوتیوں کی بھی خبر نہیں لی۔ میں مانتی ہوں کہ آپ کے بیٹے نے آپ کو بہت کچھ سمجھایا ہوگا، مگر ایسا کیا کہہ دیا کہ آپ اپنے ہی پوتے پوتیوں سے اتنے بے حس ہوگئے؟ مجھے آپ سے ایسی امید نہیں تھی۔"
پاکستان کی معروف اداکارہ بشریٰ انصاری ایک بار پھر اپنی بیٹی نریمان انصاری کی ازدواجی زندگی اور سابق سسرال والوں کے رویے پر کھل کر بول پڑیں۔ اپنے حالیہ وی لاگ میں انہوں نے بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے حالات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ رشتہ ختم ہونے کے بعد سسرال والوں کی بے رخی نے انہیں شدید دکھ پہنچایا۔
بشریٰ انصاری کے مطابق نریمان نے شادی کے دوران اپنے سسرال والوں کو ہمیشہ اہمیت دی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھا، لیکن علیحدگی کے بعد کسی نے نہ ان کی خیریت دریافت کی اور نہ ہی بچوں سے رابطہ رکھنے کی کوشش کی۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ میاں بیوی کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، مگر بزرگوں کو بچوں کے ساتھ اپنا تعلق ختم نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی اپنے سسرال والوں کا احترام کرتی رہی ہیں اور انہیں اپنی ساس یا نندوں سے کوئی خاص شکایت نہیں رہی۔ ان کے نزدیک رشتوں میں اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے احترام اور ہمدردی برقرار رہنی چاہیے۔
واضح رہے کہ بشریٰ انصاری کی دو بیٹیاں نریمان اور میرا انصاری ہیں، جن کی شادیاں علیحدگی پر ختم ہوچکی ہیں۔ اداکارہ اس سے قبل بھی اپنی بیٹیوں کی زندگی سے متعلق بعض فیصلوں پر افسوس کا اظہار کرچکی ہیں۔
بشریٰ انصاری کے تازہ بیان میں سب سے زیادہ دکھ اس بات پر نظر آیا کہ بڑوں کے اختلافات کا اثر بچوں کے رشتوں پر بھی پڑا۔ ان کے مطابق شادی ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ خاندان کے دیگر افراد بھی اپنی محبت اور ذمہ داریاں بھول جائیں۔