پاکستانی ڈرامے ’درِ نجات‘ کے ابو بکر کا اجے دیوگن سے موازنہ، بھارتی مداحوں میں نئی بحث چھڑ گئی

image

"90 کی دہائی میں ہمارے پاس بھی اپنا ایک ابو بکر تھا، جسے ہم فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ میں ونراج کے نام سے جانتے تھے۔"

پاکستانی ڈرامے ’درِ نجات‘ کی مقبولیت سرحد پار بھی دکھائی دے رہی ہے، جہاں بھارتی ناظرین نہ صرف اس کی کہانی اور کرداروں کو پسند کررہے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں دلچسپ گفتگو بھی جاری ہے۔ خاص طور پر ڈرامے کے کردار ابو بکر نے بھارتی مداحوں کی توجہ حاصل کی ہے۔

حال ہی میں ایک بھارتی صارف نے بالی ووڈ کی مشہور فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ میں اجے دیوگن کے کردار ونراج کا موازنہ ’درِ نجات‘ کے ابو بکر سے کیا۔ صارف کے مطابق دونوں کرداروں میں محبت، خلوص اور اپنے رشتے کے لیے قربانی دینے جیسی خوبیاں پائی جاتی ہیں، اسی لیے انہیں ونراج میں ابو بکر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

تاہم یہ موازنہ تمام بھارتی ناظرین کو پسند نہیں آیا اور کئی صارفین نے دونوں کرداروں کو ایک دوسرے سے مختلف قرار دیا۔ ایک مداح نے تبصرہ کیا کہ دونوں کہانیوں کے حالات یکساں نہیں ہیں، اس لیے ونراج اور ابو بکر کو ایک جیسا سمجھنا درست نہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ہر اچھی چیز کو اپنی پرانی فلموں یا کرداروں سے جوڑنا ضروری نہیں، کیونکہ ابو بکر اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ بعض مداحوں نے اس کردار کی شخصیت اور انداز کی تعریف کرتے ہوئے اسے ونراج سے زیادہ پسند کرنے کا اظہار بھی کیا۔

فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ میں اجے دیوگن نے ایک ایسے شوہر کا کردار ادا کیا تھا جو اپنی بیوی کی خوشی کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتا ہے۔ یہی پہلو بعض ناظرین کو پاکستانی ڈرامے کے ابو بکر کی یاد دلاتا ہے، اگرچہ دونوں کہانیوں کے حالات اور کرداروں کا سفر مختلف ہے۔

’درِ نجات‘ ان پاکستانی ڈراموں میں شامل ہوگیا ہے جنہیں بھارت میں بھی ناظرین کی جانب سے توجہ مل رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے مناظر، کرداروں اور کہانی سے متعلق تبصرے سامنے آرہے ہیں، جبکہ بعض بھارتی انفلوئنسرز بھی ڈرامے کی تعریف کرچکے ہیں۔

ابو بکر اور ونراج کے درمیان ہونے والی اس بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناظرین اکثر نئے کرداروں کو اپنی پسندیدہ پرانی فلموں اور ڈراموں سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ تاہم مداحوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ابو بکر کی مقبولیت کی اصل وجہ اس کی اپنی شخصیت اور کہانی ہے، جسے کسی دوسرے کردار سے ملانے کی ضرورت نہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US