مکمل پردہ کرنے والی خواتین کو زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے؟ حنا بیات کے انکشاف نے نئی بحث چھیڑ دی

image

’’ہم نے ایک تجربے کے دوران دو لڑکیوں کو پہلے عام مشرقی لباس میں بازار بھیجا تو لوگوں نے انہیں دیکھا ضرور، لیکن کسی نے کچھ نہیں کہا۔ پھر وہی لڑکیاں دوپٹہ اوڑھ کر گئیں تو انہیں نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش کی گئی، جبکہ مکمل حجاب پہن کر جانے پر انہیں مزید چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ نتیجہ ہمارے لیے بھی حیران کن تھا۔‘‘

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ حنا بیات نے خواتین کو ہراساں کیے جانے سے متعلق ایک حیران کن تجربہ بیان کرکے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپنی بے باک رائے اور سماجی مسائل پر کھل کر گفتگو کرنے کے لیے مشہور اداکارہ نے حال ہی میں ندا یاسر کے پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ایک سماجی پروگرام کے دوران انہوں نے خواتین کے لباس اور معاشرے میں ان کے ساتھ ہونے والے رویوں کو سمجھنے کے لیے ایک خصوصی تجربہ کیا تھا۔ اس تجربے کے نتائج نہ صرف غیر متوقع تھے بلکہ ان کے مطابق اس نے خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کی سوچ کے بارے میں بھی اہم سوالات کھڑے کردیے۔

حنا بیات نے بتایا کہ تجربے کے لیے دو لڑکیوں کو تین مختلف انداز کے لباس میں ایک ہی بازار بھیجا گیا۔ پہلے مرحلے میں دونوں لڑکیاں عام اور مناسب مشرقی لباس پہن کر گئیں، جہاں کچھ لوگوں نے انہیں دیکھا، تاہم کسی نے کوئی نامناسب حرکت نہیں کی۔ دوسرے مرحلے میں جب وہی لڑکیاں دوپٹہ اوڑھ کر بازار پہنچیں تو انہیں بعض افراد کی جانب سے نامناسب انداز میں چھونے کا سامنا کرنا پڑا۔ حیرت انگیز طور پر تیسرے مرحلے میں جب لڑکیوں نے مکمل حجاب اختیار کیا تو ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات مزید سامنے آئے۔ اداکارہ کے مطابق یہ صورتحال ان کے لیے بھی حیران کن تھی کیونکہ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ زیادہ پردہ کرنے والی خواتین کو اس قسم کے رویوں کا کم سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اداکارہ نے اس تجربے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق بعض مرد مکمل پردہ کرنے والی خواتین کو کمزور یا اپنے دفاع میں آواز نہ اٹھانے والی سمجھتے ہیں، جبکہ عام مشرقی لباس میں پُراعتماد نظر آنے والی خواتین کے ساتھ نامناسب حرکت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حنا بیات کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ خواتین کو ہراساں کیے جانے کا تعلق صرف ان کے لباس سے نہیں بلکہ ہراساں کرنے والوں کی ذہنیت اور خواتین کے بارے میں ان کے تصورات سے بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ ایک محدود سماجی تجربہ تھا، اس لیے اس کے نتائج کو تمام خواتین یا پورے معاشرے پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

حنا بیات کی گفتگو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی رائے تقسیم ہوگئی۔ بعض افراد نے اداکارہ کے بیان کو پردے کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ اسلام میں پردے کی اہمیت واضح ہے، اس لیے ایسے تجربات کی بنیاد پر اس سے متعلق منفی تاثر نہیں دینا چاہیے۔ دوسری جانب کئی خواتین نے حنا بیات کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں بھی ذاتی زندگی میں اس قسم کے تجربات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ حنا بیات درست کہہ رہی ہیں کیونکہ انہوں نے خود بھی ایسا محسوس کیا ہے، جبکہ ایک اور صارف کے مطابق بعض افراد پُراعتماد خواتین کو ہراساں کرنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ انہیں اپنے خلاف ردعمل کا خدشہ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ حنا بیات کا شمار پاکستان کی ان سینئر فنکاراؤں میں ہوتا ہے جو اداکاری کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز میزبانی سے کیا تھا اور ایسے پروگراموں کا حصہ رہیں جن میں معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ خواتین کے تحفظ اور ہراسانی جیسے حساس موضوع پر ان کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا خواتین کے لباس کے بجائے معاشرے میں ہراساں کرنے والے افراد کے رویوں اور سوچ کو تبدیل کرنے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے؟


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US