ملتان کا ’رن مرید‘ ہوٹل: ’چھپائی والے کاریگر کو ہوٹل کا نام بتایا تو وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا‘

ہمارے معاشرے میں اگر کوئی مرد اپنی بیوی کا کام کاج میں ہاتھ بٹائے تو اسے رن مرید کہہ کر شرمندہ کیا جاتا ہے لیکن ملتان کا ایک ہوٹل اس روایتی سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ BBC

ملتان کی زرعی یونیورسٹی کے عقب میں واقع نسبتاً کم گنجان گلی میں ایک سائن بورڈ آویزاں ہے جسے دیکھ کر راہگیر زیرِ لب مسکرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

یہ سائن بورڈ ’رن مرید‘ نامی ڈھابے (ہوٹل) کا ہے۔

’رن مرید` کے نام سے کھلے اس ڈھابے میں داخل ہوں تو کھانا بنانے اور پیش کرنے والے سبھی نوجوانوں کو دیکھ کر یہی گمان گزرتا ہے کہ یونیورسٹی میں کلاس اٹینڈ کرتے کرتے یہاں آ نکلے ہیں۔

باورچی سے ویٹر تک سب کو ہدایات جاری کرتی اور گاہکوں کو ڈیل کرتی انھی کی عمر کی ایک نوجوان خاتون بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خلا میں لگژری ہوٹل کے قیام کا اعلان

’کھانا کھایا، شراب پی اور بل دیے بنا فرار ہوگئے‘

پشاور کے تندوری چکن کا دہلی تک کا سفر

22 سالہ عروشیہ امتیاز رن مرید نامی اس ہوٹل کی مالک اور منتظم ہیں۔ وہ کہتی ہیں بچپن سے کاروبار کرنے کا سوچا تھا۔ ہوٹل کھولا اور نام رکھنے کا مرحلہ درپیش ہوا تو طے یہ پایا کہ اس کا نام’رن مرید‘ ہو گا۔

یہ نام ذہن میں کیوں کر آیا؟ یہ الگ سے ایک طویل کہانی ہے جو ان کے والد کی شخصیت کے گرد گھومتی ہے۔

BBC

’بابا کو ان کے بہن بھائی رن مرید کہتے تھے کیونکہ وہ گھر پر ماما کی مد د کرتےتھے۔ مجھے یہ لفظ مزاحیہ ہی لگا لیکن ماما نے بتایا کہ ہنسنے کی بات نہیں یہ ایک سنجیدہ بات ہے۔ تو تب میں نے سوچ لیا کہ بابا کے مددگار شوہر ہونے پر مجھے فخر ہے اور انھی کے اعزازمیں ہوٹل کا نام یہی رکھا جائے گا۔‘

عروشیہ کی ڈگری مکمل ہونے پر ان کے خاندان نے معاشرتی روایت نبھاتے ہوئے ان کی شادی کروانے کی کوشش کی لیکن عروشیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت انھوں نے ہوٹل اور اس کے نام کا اعلان کر دیا۔ ’کوئی جل گیا کسی نے دعا دی‘ کے مصداق والدین اور چند دوستوں نے ان کا ساتھ دیا جبکہ شروع میں اکثر لوگوں نے اس نام پر مذاق بھی اڑایا۔

’ایک ہی دن میں جگہ اور سٹاف کے بندوبست کے بعد ہم پینا فلیکس بنوانے پہنچے تو کاریگر نے پوچھا نام کیا چھاپیں۔ میں نے کہا ’رن مرید ہوٹل‘۔۔۔ ایک لمحے کو خاموشی ہوئی اور پھر کاریگر کے منہ سے ہنسی کا فوارہ پھوٹا۔ وہ ہنستا چلا گیا اور جب اس کا دورہ ختم ہوا تو اس نے چھپائی کی حامی بھری اور ہم سے پیسے بھی نہیں لیے۔‘

BBC

عروشیہ کے والد امتیاز الحسنکا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مرد اپنی بیویوں کے ساتھ گھر کے کاموں میں تعاون کرتے ہوں یا ان سے انسیت کا برملا اظہار کریں تو یہی کہا جاتا ہے کہ ’ایہہ بیوی دے تھلے لگ گیا اے۔‘

’اور اب تو دوست یار کہتے ہیں کہ بیٹی نے تم پر رن مرید کا لیبل پکا کر دیا ہے، لیکن مجھے فرق نہیں پڑتا۔‘

عروشیہ کے پارٹنر نعیم بھی انھی کی طرح ایک نوجوان ہیں۔ یونیورسٹی کے عقب میںواقع ہونے کے باعث رن مرید ہوٹل کے اکثر گاہکوں میں طلبا اور اساتذہشامل ہیں جبکہ کم قیمت کھانا ہونے کی وجہ سے آس پاس کا مزدور طبقہ بھی بڑی تعداد میں یہاں آتا ہے۔

BBC

گاہکوں میں چند طلبا سے بات ہوئی تو ان میں سے اکثر نے اس نام کی پذیرائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوی تمام دن شوہر کی خدمت کرے تو اسے کوئی شوہر مرید نہیں کہتا لیکن مرد بیوی کے لیے کام کاج کرے تو اسے رن مرید کہہ کر شرمندہ کیا جاتا ہے۔ ایک طالب علم نے تو سینہ ٹھونک کر کہا کہ شادی کے بعد وہ ضرور رن مرید کہلوانا پسند کرے گا۔

عروشیہ کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگ اس نام سے جڑے شرمندگی کے احساس پر قابو پا رہے ہیں۔ ہوٹل کھولنے کے بعد سے ہنسی مذاق میں ہی سہی لیکن بات چیت کا ایک در کھلا ہے اور انھیں خوشی ہے کہ زیادہ تر لوگوں میں اس سوچ کو قبولیت ملی ہے کہ ہمدرد، مددگار اور حساس شوہر ہونا کوئی گالی نہیں ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.