کیا پاکستان میں شدت پسندی صوفی محمد سے شروع ہوئی تھی؟

افغانستان میں ہزاروں نوجوان رضاکار جنگجوؤں کی موت کا ذمہ دار قرار دیے جانے والے کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت کے بانی اور مرکزی امیر صوفی محمد پشاور میں وفات پا گئے۔

کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی (ٹی این ایس ایم) کے سربراہ اور تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر مولانا فضل اللہ کے سسر مولانا صوفی محمد طویل علالت کے بعد پشاور میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کی عمر 95 برس کے لگ بھگ تھی۔

صوفی محمد کے صاحبزادے فضل اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جمعرات کی صبح اپنے والد کے انتقال کی تصدیق کی۔

انھوں نے بتایا کہ کہ ان کے والد گذشتہ کئی برس سے گردوں کے دائمی مرض میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے انھیں اکثر اوقات ہسپتال لے جانا پڑتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کالعدم تنظیم کے رہنما صوفی محمد کون ہیں؟

مولانا صوفی محمد کی ضمانت منظور، جلد رہائی کا امکان

خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن کے ایک چھوٹے سے گاؤں میدان سے ’نفاذ شریعت‘ کے نام پر مسلح تحریک کا آغاز کرنے والے مولانا صوفی محمد گذشتہ دس برس سے پشاور میں نظر بندی کی زندگی گزار رہے تھے اور اس دوران انہیں اپنے آبائی علاقے میں جانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

مولانا صوفی محمد پہلی مرتبہ اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنے جب نوے کے عشرے میں وہ ہزاروں لوگوں کے ہمراہ ’اسلامی شریعت‘ کے نفاذ کے لیے مسلح ہو کر سڑکوں پر نکل آئے اور پورے ملاکنڈ ڈویژن کا نظام جام کر دیا۔

سوات کے سینیئر صحافی غلام فاروق کا کہنا ہے کہ اس وقت ایسی صورتحال پیدا ہو گئی تھی کہ جیسے پورے ملاکنڈ ڈویژن پر ٹی این ایس ایم کے مسلح افراد کا قبضہ ہو گیا ہو۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت کئی بڑے بڑے علما اور خواتین بھی صوفی محمد کی تحریک میں شامل ہو گئے تھے۔

صوفی محمد پر بی بی سی کی یہ خصوصی ویڈیو دیکھیے

اس تحریک کے ابتدائی دنوں میں سکیورٹی فورسز اور ٹی این ایس ایم کے مسلح شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں اس وقت کے ایم پی اے بدرالزمان سمیت کئی افراد مارے گئے تھے تاہم حکومت نے صوفی محمد کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت پہلی مرتبہ ملاکنڈ ڈویژن میں ’شرعی نظام‘ کا نفاذ کیا گیا اور پہلی بار عدالتوں میں ججوں کی بجائے علما کو علاقہ قاضی اور ضلعی قاضی مقرر کیا گیا۔

صوفی محمد دوسری مرتبہ اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنے جب امریکہ میں نائن الیون کے واقعے کے بعد افغانستان پر حملہ کیا گیا اور وہاں طالبان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ صوفی محمد نے اس وقت ملاکنڈ ڈویژن اور اس وقت کی باجوڑ ایجنسی سے ہزاروں افراد کا مسلح لشکر تیار کرکے طالبان کا ساتھ دینے کے لیے افغانستان کا رخ کیا۔

اس مہم میں ان کے ساتھ ان کے داماد ملا فضل اللہ بھی ہمراہ تھے جو بعد میں سوات میں طالبان کے امیر بنے ۔

بتایا جاتا ہے کہ اس وقت اس لشکر میں صوفی محمد کے ہمراہ بیشتر نوجوان اور ادھیڑ عمر کے ’جہادی‘ تھے جن میں سے زیادہ تر افغانستان میں جنگ کے دوران ہلاک ہوئے یا پھر لاپتہ ہوئے۔

افغانستان سے واپسی پر صوفی محمد اور ان کے داماد ملا فضل اللہ سمیت سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تاہم بعد میں فضل اللہ رہا ہوئے جبکہ صوفی محمد جیل میں تھے۔

AFPصوفی محمد کو پشاور کے سیٹھی ٹاؤن سے 26 جولائی 2009 کو گرفتار کیا گیا

سوات میں سنہ 2007 میں جب مولانا فضل اللہ کی سربراہی میں شورش شروع ہوئی تو اس وقت کی صوبائی حکومت نے مولانا صوفی محمد کو رہا کر کے ان کے ذریعے طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرایا لیکن یہ معاہدہ جلد ہی ناکام ہوا اور حکومت کی طرف سے صوفی محمد کو ایک مرتبہ گرفتار کر لیا گیا۔

صوفی محمد کے خلاف حکومت کی طرف سے کئی مقدمات بنائے گئے تھے جس میں آئین پاکستان سے انکار، سکیورٹی فورسز اور تھانوں پر حملے اور اعلیٰ عدالتوں کے احکامات نہ ماننے جیسے مقدمات شامل تھے۔

مولانا صوفی محمد پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کی تحریک کی وجہ سے پاکستان میں شورش اور تشدد پیدا ہوا اور بعد میں یہی تشدد طالبان تحریک کی صورت میں ظاہر ہوا اور آج تک موجود ہے۔

صوفی محمد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ انتہائی سخت گیر موقف کے حامل تھے۔ وہ اپنے انٹرویو میں کئی مرتبہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں کو غیر اسلامی قرار دے چکے تھے اور ان کے احکامات ماننے سے صریحاً انکاری تھے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سوات میں شدت پسندی میں صوفی محمد کی تحریک کا بڑا عمل دخل رہا ہے کیونکہ بیشتر شدت پسند یا تو ان کی تحریک سے متاثر تھے یا پھر ان کے شاگرد تھے۔

سوات میں سب سے پہلے ملا فضل اللہ نے ’نظام عدل‘ کے نفاذ کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کیا جو نہ صرف صوفی محمد کے داماد تھے بلکہ ان کے شاگرد کے ساتھ ساتھ ان کے دست راست بھی بتائے جاتے تھے اور بعد میں یہی فضل اللہ تحریک طالبان پاکستان کے امیر بھی بنے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.