امریکہ اور چین فوجی اخراجات کی دوڑ میں سب سے آگے

واشنگٹن — 11 ستمبر، 2001 میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے 18 برس بعد عالمی منظر نامے پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں فوجی اخراجات اس قدر بلندی پر پہنچ گئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔

سٹاک ہوم میں قائم بین الاقوامی امن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف 2018 میں دنیا بھر میں ایک کھرب 80 ارب ڈالر فوجی اخراجات کی مد میں خرچ کیے گئے۔

انسٹی ٹیوٹ کے عہدیدار پیٹر ویزمین کا کہنا ہے کہ ہمیں اس کو ایک وارننگ کے طور پر دیکھنا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ اس قدر خطیر فوجی اخراجات دنیا کو لازمی طور پر کسی عالمی جنگ کی طرف لے جائیں تاہم اس پر بہت قریب سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

1998 میں سرد جنگ کے بعد کے دور میں فوجی اخراجات خاصی حد تک کم تھے۔ تاہم 2001 میں نائن الیون کا واقعہ پیش آ گیا جس کے بعد افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا آغاز ہوا اور امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے فوجی اخراجات تیزی سے بڑھتے چلے گئے۔

امریکہ میں سابق صدر اوباما کے دور میں فوجی اخراجات میں کمی کی گئی۔ تاہم اب یہ ایک مرتبہ پھر تیزی سے اوپر جا رہے ہیں اور ماہرین کے مطابق اس کے محرک روس اور چین ہیں۔

امریکہ میں سیاسی اور فوجی امور کے نائب وزیر خارجہ کلارک کوپر کا کہنا ہے کہ ہمارے سامنے دو تغیر پسند طاقتیں ہیں جو وہ مقام حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں جو انہیں اس وقت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ یہ طاقتیں وہ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

عالمی فوجی اخراجات میں امریکہ کا حصہ ایک تہائی سے بھی زیادہ ہے۔ امریکہ کے پاس اس وقت 11 طیارہ بردار جہاز، طاقتور ایٹمی اسلحہ خانہ، نہایت جدید لڑاکا طیارے اور تقریباً 21 لاکھ فوجی ہیں۔

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے بریڈلے بومین کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں روس اور چین کو دانستہ طور پر بلند قامت ظاہر کیا جاتا ہے اور امریکہ ان کی کمزوریوں کو کسی تصادم کی صورت میں اپنے مفاد کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم بومین کہتے ہیں کہ کچھ ایسے شعبے بھی ہیں جن میں روس اور چین امریکہ سے آگے ہیں۔

چین امریکہ کے بعد فوجی اخراجات میں دوسرے نمبر پر ہے۔ 1990 میں عالمی سطح پر فوجی بجٹ میں چین کا حصہ صرف 2 فیصد تھا جو اب بڑھ کر 14 فیصد ہو چکا ہے۔

بریڈلے بومین کہتے ہیں کہ چین اپنی فوجوں کو جدید بنانے کے جامع منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ گذشتہ دو عشروں میں چین نے دو طیارہ بردار جہاز بنائے جب کہ تیسرا طیارہ بردار جہاز زیر تعمیر ہے۔ اس نے نہایت جدید لڑاکا طیارے بنا لیے ہیں اور اس کی افواج کی تعداد بڑھ کر 25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ چین نئی ٹیکنالوجی میں سرگرمی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے جس میں آواز سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتار سے پرواز کرنے والے طیارے بھی شامل ہیں۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پیٹر ویزمین کا کہنا ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے بھارت جیسے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ بھارت نے گذشتہ تین برس کے دوران اپنے فوجی اخراجات میں 11 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کیا ہے اور اب عالمی سطح پر فوجی اخراجات میں بھارت چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔

نیٹو کے 29 ممالک نے مجموعی طور پر فوجی اخراجات کی مد میں 963 ارب ڈالر خرچ کئے جو 2018 میں عالمی فوجی اخراجات کا 53 فیصد رہا۔

اس وقت جب کہ امریکہ اپنے اتحادیوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ دفاع پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد خرچ کریں، اس بات کا امکان موجود ہے کہ عالمی سطح پر فوجی اخراجات میں اضافے کی رفتار مسلسل بڑھتی جائے اور اسلحے کے انبار دنیا کو ایک خطرناک مقام تک لے جائیں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.