کُرد: شام، ترکی، عراق اور ایران میں بسنے والی اس قوم کی تاریخ کیا ہے؟

دنیا کے غیر مستحکم خطوں میں سے ایک مشرقِ وسطیٰ جہاں آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر کا نسلی یا لسانی گروہ کُرد ہیں جو آج تک ایک قومی ریاست یا قومی شناخت بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ Getty Imagesکرد میسوپوٹیمیا کے میدانوں اور پہاڑوں کا ایک قدیم ترین نسلی گروہ ہے۔

دنیا کے غیر مستحکم خطوں میں سے ایک مشرقِ وسطیٰ جہاں آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر کا نسلی یا لسانی گروہ کُرد ہیں جو آج تک ایک قومی ریاست یا قومی شناخت بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اگر دنیا کے کسی عام نقشے پر کردوں کو تلاش کریں گے تو آپ کو ان کا کوئی ملک نظر نہیں آئے گا۔ کُرد ایک آزاد یا مقتدر قوم نہیں ہیں۔ لیکن ایک اندازے کے مطابق ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ کے درمیان اپنے آپ کو کُرد کہنے والے گروہ تُرکی، عراق، شام، ایران اور آرمینیا میںپھیلے ہوئے ہیں۔کردوں کی کئی ممالک میں تقسیم

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بابل و نینوا کے میدانوں میں اور پہاڑوں پر رہنے والے قدیم ترین لوگ ہیں۔ یہ علاقے اب جنوبی ترکی، شمال مشرقی شام، شمالی عراق، شمال مغربی ایران اور جنوب مغربی آرمینیا کہلاتے ہیں۔

BBC

لیکن کردوں کی سب سے زیادہ تعداد ایران، عراق اور ترکی کے متصل علاقوں میں رہتی ہے اور اس کے بعد کردوں کی بڑی تعداد شام کے شمال مشرقی علاقے میں آباد ہے اور ان علاقوں کو عموماً کردستان کہا جاتا ہے۔

کردستان کے ہر ملک میں اس کے اپنے منفرد معنی ہیں۔ ایران میں کرد علاقوں پر مشتمل ایک صوبے کا نام ہی کردستان ہے، جبکہ عراق میں کردوں کے علاقے کو کرد خود مختار خطہ (کردستان ریجنل گورنمنٹ) کہا جاتا ہے لیکن آئینی لحاظ سے یہ عراق کا ایک صوبہ ہے۔

انسائیکلو پیڈیا بریٹینیکا کے مطابق اس کے علاوہ کردوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایران کے شمال مشرقی صوبے خُراسان میں بھی آباد ہے۔

سائیکس پیکو معاہدہ

مشرقِ وسطیٰ کے کئی مسائل کی طرح کردوں کی ان مختلف ممالک میں تقسیم بھی پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانیہ اور فرانس کے درمیان سنہ 1916 میں ہونے والے سائیکس پیکو معاہدے کا شاخسانہ ہے۔

Getty Imagesبرطانوی فوجی اور سفارتکار سر مارک سائیکس جنھوں نے سنہ 1916 میں مشرق وسطیٰ کی تقسیم کا خاکہ فراسیسی سفارتکار فرنسوا جارج پیکو کے ساتھ تیار کیا۔ اس تقسیم کے اثرات ایک صدری کے بعد بھی خطے کو غیر مستحکم کیے ہوئے ہیں۔

سائیکس پیکو معاہدے کے تحت مشرق وسطیٰ کو سلطنت عثمانیہ سے علحیدہ کرنے کے بعد برطانیہ اور فرانس کے درمیان بننے والے اثر و رسوخ کے دائرے میں تقسیم کرنا تھا۔ اس کے بعد مشرقِ وُسطیٰ کی ہیت ہی بدل گئی۔

سائیکس پیکو معاہدے کے تحت مشرقِ وُسطیٰ کی تقسیم کو سنہ 1920 کے معاہدۂِ سیورا میں مستقل سرحدوں میں تبدیل کردیا گیا۔ ترکی میں کرد علاقوں کو ایک علحیدہ 'کُردش خطہ (ٹیری ٹوری)' قراردیا گیا تھا لیکن ترکوں کی قومی حکومت نے اس کی مخالفت کی۔

اس کے بعد سنہ 1923 کے معاہدۂِ لوسین میں ترکی کی سرحد کو عراق تک تسلیم کرلیا گیا جس کے نتیجے میں کردوں کے الگ ریاست کی تمام امیدیں ختم ہو گئیں۔ کرد عراق، شام اور ترکی میں تقسیم ہو گئے۔

اس معاہدے کا بعد میں اثر یہ ہوا کہ ترکی نے کردوں کو بنیادی شہری حقوق ہی دینے سے انکار کردیا۔ اس طرح کرد سنہ 90 کی دہائی کے آخر تک شہری حقوق سے محروم رہے جیسا کہ آج کل روہنگیا کی حیثیت کے بارے میں تنازعہ ہے۔ کرد کئی دہائیوں سے آج تک اپنے حقوق کے لیے ترکی سے مسلسل لڑائی لڑ رہے ہیں۔

اسی طرح شام میں رہنے والے کرد عرب حکمرانوں کے خلاف اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنے سیاسی و اقتصادی حقوق کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔ شام میں خانہ جنگی تک کردوں کو مکمل رائے دہی کے تمام حقوق حاصل نہیں تھے۔ لیکن اب جبکہ انھوں نے شام میں کرد آبادی والے علاقوں کو دولت اسلامیہ سے جنگ کرکے آزاد کرایا تو انھیں ترکی کے حملے کا خطرہ ہے۔

کردوں پر مظالم کی تاریخ

عراق کے کردوں پر صدام حسین کے دور میں بد ترین مظالم ڈھائے گئے۔ صدام حسین پر کردوں کی نسل کُشی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ اسی دورِ حکومت میں کردوں پر 80 کی دہائی میں کیمیائی ہتھیار بھی پھینکے گئی جس سے ہزاروں کرد شہری ہلاک ہوئے۔

اور جب ایران کے شمال مغرب کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے کردوں نے سنہ 1946 میں ایک آزاد کردستان بنانے کی کوشش کی تو انھیں اس وقت کی ایرانی حکومت نے سختی سے کچل دیا۔

کردوں کی قدیم تاریخ

اسلام سے پہلے کردوں کی ایک آزاد حکومت کے آثار کم نظر آتے ہیں لیکن جب خلافتِ عباسیہ کمزور ہوئی تو جن چند گروہوں نے اپنی خود مختار سلطنتیں قام کیں ان میں سلطان صلاح الدین ایوبی بہت مشہور ہیں۔ اس طرح تاریح میں سب سے مشہور کرد حکمران صلاح الدین ایوبی ہیں۔

منگولوں کے بغداد پر حملے کے بعد جب پھر سے مسلمانوں کو عروج ملا تو اس دور میں بھی کرد ایک ذیلی قوم کے طور پر خلافتِ عثمانیہ کا حصہ رہے۔ ان کی عثمانوی اہلکاروں سے جھگڑے ہوتے رہتے تھے لیکن یہ اس وقت بھی ایران اور خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ حکومت علاقوں میں تقسیم رہے۔

Getty Imagesسلطان صلاح الدین ایوبی نسلی طور پر کرد تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کی انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ دی لائین ہارٹ کے ساتھ لڑائی کے منظر کی پینٹنگ

کردوں کے ایک عالم ادریسی بدلیسی نے کردوں اور خلافت عثمانیہ کے درمیان ایک معاہدہ کروایا۔ اس معاہدے کے مطابق عثمانوی علاقوں میں رہنے والے کرد قبیلوں نے خلیفہ کی حاکمیت کو تسلیم کرلیا اور اس کے عوض خلیفہ نے ان قبائل کی خودمختاری کو مان لیا۔

اس طرح خلافت عثمانیہ میں اگلی کئی صدیوں تک کرد ایک خود مختار قوم اور خود مختار قبائل کو صورت میں پرامن زندگی گُزارتے رہے۔ لیکن قومی ریاست کے مغربی تصورات مشرق میں بھی پھیلنا شروع ہوئے تو کردوں کے ایک سردار میر محمد نے سنہ 1830 سے لے کر 1839 تک ایک متحدہ کردستان کے قیام کے لیے عثمانویوں کے خلاف جنگ لڑی۔

Reutersکردوں کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے لیکن ان کی اپنی کوئی ریاست نہیں ہے۔ ایک کرد خاتون اسرائیل میں احتجاج کرتے ہوئے کردوں کا پرچم لہرا رہی ہے۔

کردوں کی ان کوششوں کی ناکامی کے بعد خلافت عثمانیہ کے ترک اہلکاروں نے کردوں کے علاقوں کو براہِ راست اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ کرد سرداروں کو انعام و اکرام سے نوازا گیا، ان کے بچوں کو مراعات اور تعلیم کی سہولتیں دیں گئیں اور انھیں انتظامیہ میں اعلیٰ عہدے دیے گئے تاکہ وہ خلیفہ کے وفادار رہیں۔

ان مراعات سے کردوں میں ایک اشرافیہ طبقہ پیدا ہوا جو جدید تعلیم یافتہ تھا جس نے کردوں میں سیاسی بیداری پیدا کی، کردوں کے ادارے قائم کیے اور پھر اپنی قومی شناخت کے بارے میں جد و جہد کا آغاز کیا۔

لیکن عالمی جنگ کی وجہ سے جب برطانیہ اور فرانس نے عثمانوی خلافت اور ان کے صوبوں کے حصے بخرے کرنا شروع کیے تو کردوں نے بھی اپنا حصہ حاصل کرنے کو کشش تو کی، لیکن ان کے پاس مختلف خطوں میں رہنے والے کردوں کے لیے کوئیایک جامع منصوبہ نہیں تھا۔ اُس وقت سے کرد مختلف ممالک میں منقسم ہیں۔

دولت اسلامیہ سے کردوں کی لڑائیAFPشمالی عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف کردوں کے عسکری دھڑے پیش مرگہ نے جنگ لڑی۔

جب خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے شام کے شمالی علاقوں میں اپنا مرکز بنانا چاہا تو انھیں پہلی مزاحمت کردوں کی جانب سے ملی۔

شامی کردوں کی سیاسی جماعت حزب الاتحاد الديمقراطی (جسے پی وائی ڈی کہا جاتا ہے) اس کے عسکری شعبے عوامی دفاعی تنظیم (یاکینیان پارستینا گِل جو وائی پی جی کہلاتی ہے)، نے دولت اسلامیہ کے خلاف حملوں کا آغاز کیا۔

جب دولت اسلامیہ کو سنہ 2014 میں عراق میں فتح حاصل ہوئی‎‎‎ تو ان کا براہِ راست تصادم عراقی کردوں سے بھی ہوا۔ جب موصل اور اس کے ارد گرد کے علاقوں سے عراقی فوج ہتھیار ڈال کر پسپا ہو گئی تو عراقی ریاست کے خود مختار کردوں نے دولت اسلامیہ سے جنگ کرنے کے لیے ’پیش مرگہ‘ کہلانے والے اپنے عسکری گروہ اسلامی شدت پسندوں سے لڑنے کے لیے تعینات کیے۔

لیکن دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے پیش مرگہ کو بھی پسپائی پر مجبور کر دیا اور ان کے زیرِ قبضہ کئی ایک علاقے دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں آ گئے جن میں سنجار بھی شامل ہے۔ وہاں یزیدی اقلیتی رہتے تھے جن کی خواتین کو دولتِ اسلامیہ نے غلام بنایا۔

AFPترکی کے فوجی اہلکاروں نے کوبانی کی جنگ میں مداخلت نہیں کی

دولت اسلامیہ کے ان حملوں کے جواب میں امریکہ اور اس کی اتحادی طاقتوں نے شمالی عراق میں فضائی حملے کیے اور پیش مرگہ کو فوجی مشیر فراہم کیے۔ کردوں کی جماعت وائی پی جی جو ترکی سے تین دہائیوں سے لڑ رہی ہے، اور جن کے عراق میں اڈے ہیں، وہ بھی پیش مرگہ کی امداد کے لیے پہنچی۔

ستمبر 2014 میں دولت اسلامیہ نے شمالی شام کے ایک کرد شہر کوبانی پر حملہ کیا جس سے لاکھوں کرد ترکی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ دولتِ اسلامیہ نے ترکی کی سرحد کے قریب حملہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود ترکی نے دولت اسلامیہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ترک کردوں کو اپنے ہم نسل شامی کردوں کی مدد کرنے کی اجازت دی۔

AFPترکی میں کرد قصبے سورج میں بم دھماکے کے بارے میں کہا تھا اس کے پیچھے ترکی کے اہلکار تھے۔

جنوری سنہ 2015 میں تقریباً 1600 افراد کی جنگ میں ہلاکت کے بعد کردوں نے کوبانی کو دولت اسلامیہ سے آزاد کرا لیا۔

شمالی شام میں کردوں نے مقامی عرب ملیشیا کے ہمراہ جو سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے نام سے جانے جاتے تھے، دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی لڑی اور انھیں کافی دور دھکیل دیا۔ ان کردوں کو امریکہ کی امداد بھی حاصل تھی۔ ان کردوں اور عرب ملیشا نے شام میں ترکی کی سرحد کے ساتھ کے علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کر لیا تھا۔

اکتوبر سنہ 2017 میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے دولت اسلامیہ کے دارالحکومت رقّہ کو آزاد کرا لیا اور پھر وہاں سے جنوب کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے انھوں نے شدت پسندوں کے دوسرے بڑے مرکز دير الزور کو بھی آزاد کرایا۔

AFPکردوں کی قیادت میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے رقہ کو آزاد کرایا

دولت اسلامیہ کا آخری قصبہ باغوز بھی سیرین ڈیموکرٹک فورسز کے قبضے میں سنہ 2019 میں آ گیا۔ اس فورس نے اپنی کامیابی کا جشن تو منایا لیکن خبردار کیا کہ ’جہادیوں‘ کے سلیپر سیلز اب بھی خطے کے استحکام اور دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔

ان کامیابیوں کے بعد سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو ایک بڑی تعداد میں دولت اسلامیہ کے شکست کھانے والے قیدیوں سے نمٹنا پڑا۔ امریکہ نے کہا کہ ان قیدیوں کو ان کے اصل وطن روانہ کردیا جائے لیکن ان ملکوں نے انھوں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ان حالات کے پس منظر میں اب کردوں کو ترکی کے حملے کا سامنا ہے کیونکہ ترکی شام کے اندر 32 کلو میٹر تک ایک محفوظ زون بنانا چاہتا ہے تا کہ شام سے آئے پناہ گزینوں کو واپس شام میں آباد کر سکے۔

شامی حکومت جسے روس کی حمایت حاصل ہے وہ بھی کوشش کر رہی ہے کہ وہ شام کے تمام علاقوں کا کنٹرول واپس حاصل کر لے۔

ترکی کردوں کو اپنے لیے خطرہ کیوں سمجھتا ہے؟ AFPترک کردوں کی تنظیم پی کے کے کے لیڈر عبداللہ اچلان سنہ 1999 سے قید میں ہیں۔

ترک کردوں اور ترک ریاست کے درمیان بہت گہری مخاصمت کی تاریخ ہے۔ کرد ترکی کی آبادی کا 15 فیصد سے 20 فیصد حصہ ہیں۔

کردوں کی کئی نسلوں کو ترک حکام کی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کردوں کی کئی ایک بغاوتوں کی وجہ سے انھیں ترکی کے اندر ایک مرتبہ 1920 اور پھر 1930 کی دہائی میں علاقہ بدر کیا گیا۔ اس کے علاوہ کردوں کے ناموں اور ان کے لباس پر پابندی عائد کی گئی، کرد زبان کے بولنے پر کافی پابندیاں لگائی گئیں۔ یہاں تک کے کرد نسل کے وجود کو بھی ماننے سے انکار کیا گیا اور انھیں ’پہاڑی ترک‘ کہا جاتا ہے۔

1978 میں کرد رہنما عبداللہ اوچلان نے ترکی میں ہی ایک آزاد کرد ریاست کے قیام کے لیے ’پی کے کے‘ نامی سیاسی جماعت قائم کی تھی۔ اس کے قیام کے چھ برس بعد اس گروپ نے مسلح جد و جہد شروع کردی۔ اُس وقت سے اب تک چالیس ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔

AFPسنہ 1984 کے بعد سے شروع ہونے والی کرد مسلح جد و جہد کے بعد اب تک 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سنہ 1990 میں پی کے کے آزاد کردستان کے مطالبے سے دستربدار ہو گئی اور اس کی جگہ زیادہ سے زیادہ سماجی اور ثقافتی خود مختاری کے مطالبے کر دیے، تاہم ان کی مسلح جد و جہد جاری رہی۔ سنہ 2013 میں خفیہ مذاکرات کے بعد ایک جنگ بندی طے پائی۔

لیکن یہ جنگ بندی سنہ 2015 میں شام کی سرحد کے قریب ایک ترک قصبے سورج میں ایک خود کش حملے کے بعد ختم ہوگئی۔ پی کے کے نے ترک پولیس اور فوج پر اس دھماکے کی سازش کا الزام عائد کیا۔

اس دھماکے کے بعد ترکی نے پی کے کے اور دولت اسلامیہ کے خلاف دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے نام پر فوجی کاروائی کا آغاز کیا۔

تب سے اب تک جنوب مشرقی ترکی میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام کے کرد کیا چاہتے ہیں؟AFPشام کے کردوں میں پی وائی ڈے ایک بڑی جماعت ہے۔

شام میں کرد کل آبادی کا تقریباً 7 فیصد سے 10 فیصد بنتے ہیں۔ سنہ 2011 میں شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف اٹھنے والی تحریک سے قبل، ان کی اکثریت الیپو شہر اور اس سے ملحقہ تین قصبوں کوبانی، آفرین اور قمیشلی میں رہتی تھی۔

شام کے کرد بنیادی شہری حقوق سے کافی عرصے سے محروم رہے ہیں۔ سنہ ساٹھ کی دہائی میں تقریباً تین لاکھ کردوں کو شہریت نہیں دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ کردوں کی زمینیں ان سے چھین کر عربوں میں تقسیم کردی گئی تھیں تاکہ ان علاقوں کو عرب قرار دیا جا سکے۔

جب بشارالاسد کے خلاف تحریک ایک خانہ جنگی کی صورت اختیار کر گئی تو کردوں کی جماعتیں غیر جانبدار رہیں۔ سنہ 2012 میں شام کے کرد علاقوں میں تعینات شامی فوج کو وہاں سے ہٹا کر دولت اسلامیہ سے لڑنے کے لیے دوسرے علاقوں میں تعینات کیا گیا۔ اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کردوں نے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

AFPشام کی وائی پی جی دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی ایک اتحادی فورس کے طور پر ابھری ہے۔

جنوری سنہ 2014 میں کردوں نے شام کے تین ضلعوں آفرین، کوبانی اور جزیرا میں خود مختار انتظامیہ قائم کرلی۔

سنہ 2016 میں انھوں نے ایک وفاقی نظام قائم کیا جس میں انھوں نے دولت اسلامیہ سے آزاد کرائے گئے دیگر علاقوں کو بھی شامل کرلیا۔

شام کی حکومت سمیت شام کی حزب مخالف، ترکی اور امریکہ نے ان کے اس اعلان کو مسترد کردیا۔

AFPشام کے شمالی کرد علاقوں میں ایک وفاقی نظام کے قیام کے اعلان سنہ 2016 میں کیا گیا تھا۔

جبکہ پی وائی ڈی کا کہنا ہے کہ وہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ لیکن اصرار کرتی ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے جو بھی معاہدہ طے ہو اس میں کردوں کے حقوق کا تحفظ ضرور ہونا چاہیے اور کردوں کی خود مختاری کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے عزم کیا ہوا ہے کہ وہ شام کا ایک ایک انچ علاقہ واپس حاصل کریں گے۔ ان کی حکومت نے یہ کہتے ہوئے کردوں کی خود مختاری کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے کہ ’شام میں کوئی بھی آزاد اور خودمختار یا کسی وفاقی نظام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

کیا عراقی کرد آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

عراق میں کرد کل آبادی کا 15 فیصد سے 20 فیصد حصہ ہیں۔ انھیں تاریخی طور ہمسائے ملکوں میں رہنے والے کردوں کی نسبت زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ لیکن انھں بھی ظالمانہ امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے۔

سنہ 1946 میں مصطفیٰ برزانی نے عراق سے خود مختاری حاصل کرنے کے لیے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (کے ڈی پی) بنائی تھی۔ لیکن ان کی مسلح جدوجہد سنہ 1960 کی دہائی میں شروع ہوئی تھی۔

AFPعراق سے تقریباً 15 لاکھ کرد ترکی اور ایران میں بناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے جب سنہ 1991 میں صدام حسین کے خلاف بغاوت کو سختی سے کچل دیا گیا تھا۔

عراق میں حکومت نے سنہ 1970 میں کردوں کی اکثریتی آبادی والے تیل کے کنووں سے مالا مال علاقوں خاص کر کرکوک میں، کردوں کو زبردستی بے دخل کرکے عرب قبائل کو آباد کرنا شروع کردیا۔

ایران اور عراق کی سنہ 80 کی دہائی کی جنگ کے دوران کردوں کی بے دخلی کا سلسلہ تیز سے تیز تر ہو گیا۔ عراق حکومت سمجھتی تھی کہ کردوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ سنہ 1988 میں اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین نے کردوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز شروع کر دیا۔ انہیں کارروائیوں کے دوران حلابجہ میں کردوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا گیا۔

جب عراق کو سنہ 1990 کی خلیج جنگ میں شکست ہوئی تو مصطفیٰ برزانی کے بیٹے اور ان کے مقابل کے ایک اور کرد رہنما جلال طالبانی نے کردوں کی ایک بغاوت کی قیادت کی تھی۔ جب صدر صدام حسین نے ان کی بغاوت کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال شروع کیا تو امریکہ نے عراق کے شمال میں ’نو فلائی زون‘ نافذ کر کے عراقی حکومت کو فضائی طاقت استعمال کرنے سے روک دیا۔

اس کے نتیجے میں کردوں کو خود مختار انتظامیہ قائم کرنے میں مدد ملی۔ برزانی کے بیٹے اور طالبانی کے درمیان طاقت کے اشتراک کے معاہدہ ہوا لیکن سنہ 1994 میں دونوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور کرد علاقے ایک مرتبہ پھر سے آپس کی خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔

AFPمسعود برزانی اور جلال طالبانی نے صدام حسین کے کمزور ہونے کے بعد کرد علاقوں میں مل کر حکومت چلانے کی کوشش کی تھی۔

سنہ 2003 کے امریکہ کی زیرِ قیادت فوجی اتحاد نے صدام حسین کی حکومت کے خلاف کاروائی کی تو عراق میں کرد علاقوں کی قیادت نے امریکہ کے ساتھ تعاون کیا اور اس طرح کردستان ریجنل گورنمنٹ کے ذریعے اپنی خودمختار حکومت قائم کی اور دوہک، اربیل اور سلیمانیہ کے صوبوں کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔

بعد میں جب عراق میں نیا سیاسی آئین اور ڈھانچہ تشکیکل پایا تو مسعود برزانی کو ریجن کا صدر منتخب کیا گیا۔ جبکہ جلال طالبانی عراق کے پہلے غیر عرب صدر منتخب ہوئے۔

سنہ 2017 میں عراق کے کرد علاقوں میں اور کرکوک سمیت وہ متنازعہ علاقے جو پیش مرگہ نے دولت اسلامیہ سے آزاد کرائے تھے ان میں آزادی کے لیے ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس ریفرنڈم کی عراقی حکومت نے یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ یہ غیر قانونی تھا۔

Getty Imagesکردوں کے کنٹرول والے علاقوں کے لوگوں نے ریفرینڈم میں آزاد کردستان کے حق میں فیصلہ دیا۔

اس ریفرینڈم میں 33 لاکھ افراد نے حصہ لیا اور ان میں سے 90 فیصد ووٹروں نے الگ ملک کے قیام کے حق میں ووٹ دیا۔ کردستان ریجنل حکومت کے اہلکاروں نے کہا کہ اس ریفرینڈم نے انھیں اس بات کا مینڈیٹ دے دیا ہے کہ وہ اپنی آزادی کے لیے بغداد سے مذاکرات کریں۔ لیکن اس وقت کے عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ پہلے وہ اس ریفرینڈم کو کالعدم قرار دیں۔

اس کے اگلے مہینے عراقی فوج نے کرکوک کے تیل کے کنووں پر قبضہ کر لیا جو سے اس قبل کردوں کے زیرِ قبضہ تھے۔ کرکوک کے کنووں کی آمدن سے محروم ہونے سے کردوں کی آزادی کی کوششوں کو گہری ٹھیس پہنچی۔

ریفرنڈم کی اس مہم جوئی میں شکست کھانے کے بعد مصطفیٰ برزانی کردستان ریجنل گورنمنٹ کی صدارت کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔ لیکن کرد جماعتوں کے درمیان رسہ کشی کی وجہ سے یہ عہدہ سنہ 2019 تک خالی رہا اور بالآخر مصطفیٰ کے بھتیجے نێچیروان برزانی پر اتفاقِ رائے ہوا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.