اسمارٹ فون اور ٹیبلٹس نے پی سی کو قتل کر ڈالا

واشنگٹن — 

رواں عشرہ ڈیڑھ ماہ بعد ختم ہونے والا ہے اور ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عشرے میں سب سے زیادہ ترقی اسمارٹ فون نے کی ہے۔

اس طرح، ایپل کے بانی اسٹیو جابز کا یہ قول درست ثابت ہوا ہے کہ اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ ایک دن پی سی یعنی پرسنل کمپیوٹر کو قتل کر دے گا۔

اعداد و شمار دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسمارٹ فونز جیسی فروخت تاریخ میں بہت کم مصنوعات کی ہوئی ہے۔ اس کے مقابلے پر صرف پرسنل کمپیوٹر کی بات کرنا بظاہر نامناسب لگتا ہے۔ لیکن، ٹیکنالوجی کے آلات ہونے کی وجہ سے ان کا تقابل غلط نہیں۔

اسٹیو جابز نے کہا تھا کہ مستقبل میں پرسنل کمپیوٹر کی حیثیت ٹرک جیسی ہوجائے گی۔ ٹرک ہر شخص نہیں چلاتا بلکہ صرف ضروری کام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اسمارٹ فون کی حیثیت کار جیسی ہوجائے گی جسے ہر عام آدمی استعمال کرتا ہے۔ ان کی یہ بات سو فیصد درست ثابت ہوئی ہے۔

دس سال پہلے یہ عشرہ شروع ہوا تو 2010 میں دنیا بھر میں ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز 25 کروڑ 70 لاکھ فروخت ہوئے۔ اس وقت تک لیپ ٹاپ بھی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر سے کم فروخت ہوتے تھے۔ 2014 میں پوری دنیا میں 54 کروڑ 60 لاکھ ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ فروخت ہوئے۔ 2017 میں ڈیسک ٹاپ کی فروخت 10 کروڑ سے بھی کم رہ گئی۔

ان کے مقابلے میں اسمارٹ فون کی فروخت غیر معمولی تعداد میں بڑھی۔ 2018 میں پوری دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ اسمارٹ فون فروخت ہوئے۔

اسٹیو جابز آئی پیڈ یعنی ٹیبلٹ کو مستقبل میں سب سے مقبول شے سمجھتے تھے۔ لیکن، اسمارٹ فون میں عوام کی دلچسپی نے ٹیبلٹ کو کسی حد تک پس منظر میں پھینک دیا۔ اسٹیو جابز کے انتقال کے بعد ایپل نے بھی ٹیبلٹ پر کم توجہ رکھی۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ پی سی پر کیے جانے والے بہت سے کام ٹیبلٹ پر نہیں ہو سکتے تھے۔ لوگ انھیں ویڈیو گیم کھیلنے یا نیٹ فلکس دیکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

لیکن، نئے ٹیبلٹ تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ وہ ایک ساتھ ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون جیسی خصوصیات کے حامل ہیں۔ ان پر دفتری کام کرنا آسان ہو رہا ہے اور ٹیکنالوجی ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل کے ٹیبلٹ بڑے سے اسمارٹ فون ہوں گے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.