وہ کونسی دلخراش باتیں ہیں جو نوکری کرنے والی اکثر خواتین کو نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں؟

آج اس دور میں جہاں ہر طرف جدیدیت(Modernization) ہے، اس کے باوجود وہیں آج بھی اس معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ عورتوں اور لڑکیوں کے نوکری کرنے کو تنگ نظری سے دیکھتے ہیں جیسے عورت نوکری کے لیے نہیں جارہی بلکہ کوئی جن بوتل سے آزاد ہوگیا ہو۔

ہمارے یہاں دیکھا یہ جاتا ہے کہ جب بھی کوئی لڑکی، کوئی عورت گھر سے باہر پیسے کمانے کی غرض سے نکلتی ہے اس کو مختلف قسم کی باتیں جھیلنی پڑتی ہیں۔۔

1:لوگ کیا کہیں گے؟

کام انسان اپنے لئے اپنی ضرورتوں کے لیے کرتا ہے مگر اصل مسئلہ کی بات گھروں میں یہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ لوگوں کا تو کام ہی کہنا ہے مگر سب سے پہلے اپنے ہی گھر میں جب یہ سوچ ابھرتی ہے تو ایک عورت جو معاشی طور پر اپنے گھر والوں کا سہارا بننے کی کوشش کررہی ہوتی ہے وہی سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔۔۔

2:تنخواہوں میں کمی

اداروں میں اکثر یہ رجحان دیکھنے میں آتا ہے کہ مردوں کے مقابلے عورتوں کی تنخواہیں کم سے کم رکھی جاتی ہیں کام کی نوعیت دونوں کی برابر ہی ہوتی ہے مگر بات تنخواہ کی ہو تو وہ مردوں کو زیادہ اور خواتین کو کم دی جارہی ہوتی ہے، خواہ آپ پاکستان میں ہوں یا امریکہ میں۔

3:صنفی امتیاز (gender discrimination)

ہر معاشرہ صنفی امتیاز میں گھرا ہوا ہے اور نوکری کرنے پر پہلا تنقیدی نقطہ اسی عدم توازن کی بناء پر کھڑا کیا جاتا ہے کیونکہ آج بھی دورِ جاہل کی طرح عورتوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔ ایک لفظ نوکری کو ''انا'' کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔

4:گھر کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کا آسان حل

اب ایک لڑکی یا عورت نوکری کے لیئے گھر سے باہر جارہی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب تو نہیں کہ وہ کام سے بھاگ رہی ہے کام چور ہے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرسکتی ہے، اگر بھاگنا ہی ہوتا تو وہ گھر سے باہر جاکر کام کرنے کو ترجیح ہی کیوں دیتی؟؟

یہ چند دلخراش باتیں ہیں جو عورتوں کی شخصی کامیابی میں رکاوٹ کا اہم ذریعہ بنتی ہیں جس سے نہ ان کا دل اور نہ دماغ اس رفتار سے کام کرتا ہے جس کی وہ اہل ہیں۔۔۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.