امریکہ میں گوبی گوشت اور دیسی گھی کے پراٹھے؟ اداکار رینبو اور صاحبہ نے پردیس میں دیسی کھانے کیسے کھائے؟

image

پاکستانی جہاں کہیں بھی ہوں، دیسی کھانوں کو کبھی نہیں بھولتے ہیں، ہر موقع پر دیسی کھانوں سے لطف اندوز ہونا بخوبی جانتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اداکار رینبو اور ان کی اہلیہ کے بارے میں بتائیں گے۔

مشہور پاکستانی اداکار رینبو اور ان کی اہلیہ صاحبہ نے امریکہ میں پاکستانی کھانوں کا لطف اٹھایا ہے، رینبو اپنے یوٹیوب چینل پر لائیو گئے اور مداحوں کو امریکہ میں دیسی کھانوں سے متعلق بتایا۔

رینبو امریکہ میں رشتے دار کے گھر موجود تھے، جہاں سے وہ یوٹیوب لائیو گئے تھے اور بتا رہے تھے کہ امریکہ میں بسنے والے پاکستانی آج بھی دیسی گھی کے پراٹھے، ہری مرچ کا انڈہ خوب شوق سے کھاتے ہیں۔

جبکہ رینبو نے کچن کا رخ کیا اور دکھایا کہ ان کی بھابھی کس طرح امریکی ماحول میں بھی اصلی دیسی گھی سے بنے پراٹھے بنا رہی تھیں اور ساتھ ہی ہری مرچ کا انڈہ چولہے پر پک رہا تھا۔ دراص رینبو کی بھابھی کا تعلق بھی پنجاب ہی سے ہے، تو انہیں دیسی کھانوں اور پاکستانی رنگ بخوبی پتہ ہے۔

یہی وجہ تھی کہ وہ بڑے ہی پُر لطف طریقے سے کھانے بنا رہی تھیں، پردیس میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے یہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے کہ پردیس میں رہ کر ان کے کچھ سے دیسی کھانوں کی خوشبو آ رہی ہو اور وہ دیسی گھی میں بنے پراٹھے کی خوشبو جب اسے توے پر سے ہٹایا جائے تو جو دھواں اٹھتا ہے اس کا بھی اپنا ہی مزاح ہوتا ہے، یہ پردیسی بخوبی جانتے ہیں۔

بہر حال اسی ویڈیو میں رینبو نے اپنے کزن سے اس علاقے کا بھی ذکر کیا جہاں آج بھی دیسی طور طریقے اپنائے جاتے ہیں، جہاں کھیتی باڑی ہوتی ہے، مشینوں کا بالکل بھی استعمال نہیں ہوتا، رینبو نے فورا اس علاقے جانے کی خواہش کا بھی اظہارکر دیا، جس پر کزن نے انہیں لے جانے کا ارادہ بھی ظاہر کر دیا۔

ویڈیو میں رینبو کافی حیرت زدہ تھے، کیونکہ انہیں پراٹھے کی خوشبو پاکستان کی یاد دلا رہی تھی۔ رینبو کے بھائی اور بھابھی نے اپنے گھر کو بھی اندرونی طور پر پاکستانی انداز سے سجایا ہوا ہے۔ رینبو کی خوشی کا اس وقت کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب ان کی بھابھی نے گھر میں دیسی گھی کے پراٹھے کے ساتھ گوب گوشت ان کے سامنے رکھا۔


مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.