سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی عمر ایوب مستعفی، ’پارٹی میں مزید تبدیلیاں ہوں گی‘

image

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

عمران خان کے نام اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا کہ ’میں عمران خان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میرا استعفیٰ قبول کر لیا ہے تاکہ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکوں۔‘

جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیے گئے استعفے میں میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ میں اس عہدے سے انصاف نہیں کر سکتا، تاہم ایک کارکن کی حیثیت سے پارٹی کے لیے کام کرتا رہوں گا۔‘

عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’میں آپ کے اعتماد کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ’آپ نے مجھے پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سیکریٹری جنرل کے طور پر کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔‘

 انہوں نے مزید لکھا کہ ’میں نے 22 جون کو ایک خط کے ذریعے اپنا استعفیٰ عمران خان اور بیرسٹر گوہر علی خان کو پیش کردیا تھا۔‘

’سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے آج اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران میرا پیغام ان تک پہنچایا۔‘

عمر ایوب کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں مئی 2023 سے پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا تھا۔‘

ان کے مطابق ’آنے والے دنوں نے عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔‘

عمر ایوب خان نے عمران خان کے نام لکھا گیا استعفیٰ سوشل میڈیا پر شیئر کیا (فائل فوٹو: روئٹرز)

’میں پی ٹی آئی فیملی، ارکان پارلیمنٹ اور تنظیمی عہدے داران کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے بہادری سے مشکلات کا مقابلہ کیا۔‘

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی فیملی اور کارکنوں نے گذشتہ دو سال کے دوران بے شمار مصائب اور تکالیف کا سامنا کیا۔‘

’انہوں نے جسمانی تشدد برداشت کیا اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وہ پی ٹی آئی کے ’حقیقی آزادی‘ اور ‘قانون کی حکمرانی‘ کے نظریے کے ساتھ کھڑے رہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں چیئرمین مرکزی فنانس بورڈ کے عہدے سے بھی مستعفی ہو رہا ہوں۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.