جب تامونا موسیریڈز کو پتا چلا کہ انھیں شاید کسی نے بچپن میں گود لیا تھا تو انھوں نے ایک گہری سانس بھری اور فون ملایا۔
جب تامونا موسیریڈز کو پتا چلا کہ انھیں شاید کسی نے بچپن میں گود لیا تھا تو انھوں نے ایک گہری سانس بھری اور فون ملایا۔
ابتدا میں انھوں نے اس خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی جو کہ انھیں جنم دینے والی ماں تھیں۔
وہ جانتی تھیں کہ شاید پریوں کی کہانی کی طرح ان کا اپنے بچھڑے والدین سے دوبارہ ملنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔
انھیں توقع نہیں تھی کہ دوسری جانب موجود خاتون کا رویہ سرد اور غصیلا ہوگا۔
تامونا اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ فون پر موجود خاتون نے چیخنا چِلانا شروع کر دیا اور کہا کہ انھوں نے ’کسی بچے کو پیدا نہیں کیا۔‘
تامونا کہتی ہیں کہ ’مجھے ان کے انداز نے پریشان کرنے کی بجائے حیران کیا۔‘
وہ کہتی ہیں ’میں ہر چیز کے لیے تیار تھی لیکن اس خاتون کا ردعمل میری سوچ سے بھی بہت آگے تھا۔‘
تامونا جن کی عمر اب 40 برس ہے نے اگست میں اپنی والدہ کو فون کیا۔ وہ شاید جانتی تھیں کہ انھیں اپنی زندگی میں ان کی ضرورت نہیں۔
وہ دراصل اپنے گود لیے جانے کے حالات جاننا چاہتی تھیں۔ کچھ ایسا بھی تھا جو فقط ان کی ماں ہی بتا سکتی تھیں: حقیقی والد کا نام۔
تامونا نے والدین کی تلاش 2016 میں اس وقت شروع کی جب انھیں اپنی والدہ کی وفات کے بعد ان کے گھر کی صفائی کے دوران اپنا پیدائش کا سرٹیفکیٹ ملا۔
انھوں نے جب اس پر اپنے نام کے ساتھ غلط تاریخ پیدائش دیکھی تو انھیں شک پیدا ہوا کہ شاید انھیں گود لیا گیا تھا۔
تھوڑی تلاش کے بعد انھوں نے فیس بُک پر ایک گروپ بنایا جس کا نام تھا ’میں تلاش میں ہوں۔‘ اس کا مقصد حقیقی والدین کو ڈھونڈنا تھا۔
اس کے بعد وہ جارجیا میں بچوں کی سمگلنگ کے ایک سکینڈل کو سامنے لائیں جس میں ہزاروں زندگیاں متاثر ہوئی تھیں۔ کئی دہائیوں تک والدین سے جھوٹ بولا گیا اور ان کے نوزائیدہ بچوں کے بارے میں ان سے کہا گیا کہ وہ مر گئے ہیں جبکہ حقیقت میں انھیں بیچا گیا تھا۔
تامونا خود ایک صحافی ہیں اور انھوں نے اب تک سینکڑوں خاندانوں کو اکٹھا کیا ہے۔ لیکن وہ اپنی شناخت کے حوالے سے سامنے آنے والے اس معمے کو نہ جان پائیں کہ کیا انھیں بھی پیدائش کے بعد کسی نے چوری کر لیا تھا۔
وہ کہتی ہیں اس کہانی میں ’میں ایک صحافی تھی لیکن یہ میرا ذاتی مشن بھی تھا۔‘
اپنی تلاش کے دروان انھیں بریک تھرو رواں برس دسمبر میں ملا جب انھیں اپنے فیس بک گروپ پر ایک پیغام موصول ہوا۔
یہ ایک ایسے اکاؤنٹ سے تھا جو جارجیا کے دیہی علاقے میں موجود تھا۔ انھیں بتایا گیا کہ ’ہم ایک خاتون کو جانتے ہیں جس نے تبلیسی میں ستمبر 1984 میں اپنے حمل کو چھپایا اور اس کے ہاتھ ایک بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔‘
یہ اسی عرصے کی بات ہے جب تامونا کی پیدائش ہوئی تھی۔ انھوں نے اس حوالے سے فیس بک پر پہلے ہی بتایا ہوا تھا۔
اس شخص کا خیال تھا کہ اسی خاتون کے ہاں تامونا کی پیدائش ہوئی اور انھوں نے اس خاتون کا نام بھی تامونا کو بتایا۔
تامونا نے فوری طور پر آن لائن سرچ کیا لیکن انھیں اس بارے میں کچھ نہیں ملا۔ پھر انھوں نے فیس بُک پر ایک اپیل کے ذریعے اس خاتون کے بارے میں جاننے کا فیصلہ کیا۔
اس خاتون نے جلد ہی اس پوسٹ پر ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ ’جس عورت نے حمل چھپایا وہ ان کی اپنی آنٹی تھیں۔‘
انھوں نے تامونا کو کہا کہ ’آپ پوسٹ کو ہٹا دیں‘ لیکن ساتھ ہی اس پر آمادگی کا اظہار کیا کہ وہ ڈی این اے ٹیسٹ کروائیں گی۔
جب وہ ڈی این اے کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے تو تامونا نے اپنی حقیقی والدہ کو کال کی۔
ایک ہفتے کے بعد ڈی این اے کا رزلٹ آ گیا اور پتا چلا کہ فیس بُک والی خاتون اور تامونا دونوں کزنز ہیں۔ یہ ایک ثبوت تھا جس سے تامونا اپنی والدہ کو راضی کر سکتی تھیں کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کریں اور انھیں ان کے اصل والد کا نام بتائیں۔
اس شخص کا اصل نام گروگن خوراوا تھا۔
وہ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پہلے دو ماہ حیران کن تھے۔ ’مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب میرے ساتھ ہو رہا ہے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ مجھے وہ مل گئے ہیں۔‘
تامونا کو جیسے ہی گورگن کا نام ملا انھوں نے فوراً ہی انھیں فیس بُک پر ڈھونڈا۔ اس سے یہ سامنے آیا کہ وہ سوشل میڈیا پر ان کی خاندانوں کو ملانے والی سٹوری کو فالو کر رہے تھے جو پورے جارجیا میں پھیلی ہوئی تھی۔
تامونا کو حیرت ہوئی کہ گورگن تین سال سے ان کی فرینڈ لسٹ میں موجود تھے۔
لیکن انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ تامونا کی کہانی کا حصہ ہیں۔
تامونا کہتی ہیں ’میرے والے کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مجھے جنم دینی والی ماں حاملہ ہو چکی تھیں۔ یہ سب ان کے لیے بہت بڑا سرپرائز تھا۔‘
جلد ہی تابونا نے مغربی جارجیا میں اپنے والد سے ملاقات کا انتظام کیا۔ یہ ان کا آبائی علاقہ ہے اور تامونا کی اپنی رہائش گاہ تبلیسی سے 260 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔
اس دن کے بارے میں بتاتے ہوئے تامونا کہتی ہیں کہ وہ شاک کی حالت میں تھیں اور جب وہ گورگن کے گھر کے دروازے پر پہنچیں تو حیرت انگیز طور پر وہ بالکل پُرسکون ہو گئیں۔
72 سالہ گورگن سامنے آئے، وہ دونوں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے اور پھر ایک لمحے کو رک کر دونوں نے ایک دوسرے کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔
تامونا کہتی ہیں جب انھوں نے ’میری جانب دیکھا۔ وہ لمحہ بہت عجیب تھا۔ وہ جانتے تھے کہ میں ان کی بیٹی ہوں۔ میرے جذبات ملے جلے تھے۔‘
وہ کہتی ہیں میرے پاس بہت سے سوالات تھے اور میں نہیں جانتی تھی کہ کہاں سے شروع کروں۔ ’ہم بس اکٹھے بیٹھ گئے، ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے کہ کچھ مشترک چیز کو ڈھونڈیں۔‘
پھر جب وہ بیٹھ کر بات کرنے لگیں تو انھیں پتا چلا کہ ان کی بہت سی دلچسپیاں ایک جیسی ہیں۔ گورگن جو کہ کبھی سٹیٹ بیلے میں ایک معروف ڈانسر تھے یہ سن کر خوش ہوئے کہ تامونا کی بیٹی بھی اس کام میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگیں ’میری بیٹی اور شوہر دونوں کو ڈانس پسند ہے۔‘
گورگن نے اپنے پورے خاندان کو اپنے گھر دعوت پر مدعو کیا تاکہ وہ تامونا سے ملیں۔ انھوں نے تامونا کو رشتہ داروں کے ایک بڑے گروپ سے ملوایا۔ جن میں ان کے سوتیلے بہن بھائی اور کزنز شامل تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ خاندان اس بات کو تسلیم کر رہا تھا کہ ان کی اپنے والد سے بہت مماثلت ہے۔ ’سب بچوں میں، میں اپنے والد سے سب سے زیادہ مماثلت رکھتی ہوں۔‘
انھوں نے وہ شام اکٹھے گزاری، ایک دوسرے سے کہانیاں شیئر کیں، جارجیا کے روایتی کھانے اور گانے گائے۔
اگرچہ اب وہ اپنے والد سے مل چکی تھیں پھر بھی تامونا کے ذہن میں اب بھی یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا وہ بھی ہزاروں جارجین بچوں کی طرح پیدائش کے وقت والدہ سے چرا لی گئی تھیں یا پھر انھیں بیچ دیا گیا تھا۔
ان کو گود لینے والے والدین اب زندہ نہیں تھے۔ اس لیے وہ ان کے پاس کسی جواب کے لیے نہیں جا سکتی تھی۔
پھر رواں برس اکتوبر میں آخر کار انھیں اپنی حقیقی والدہ سے پوچھنے کا موقع ملا۔
ایک ٹی وی کمپنی تابونا پر ڈاکیومنٹری بنا رہی تھی۔ وہ انھیں ان کی ماں کے پاس لے کر گئے جنھوں نے علیحدگی میں ان سے بات کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔
تامونا کو ان کی ماں نے خود چھوڑا تھا اور اس بات کو 40 برس تک راز رکھا۔
اس کے والد اور والدہ کسی تعلق میں نہیں تھے، بس کچھ وقت کے لیے ہی ملے تھے۔ ان کی والدہ بہت شرمندہ تھیں اور اس وجہ سے انھوں نے اسے چھپانے کا فیصلہ کیا۔
ستمبر 1984 میں انھوں نے تبیلسی کا سفر کیا اور لوگوں کو کہا کہ وہ سرجری کروانے جا رہی ہیں لیکن بچی کی پیدائش کے بعد وہ تب تک وہیں رہیں، جب تک اس کو کسی جوڑے کو گود دینے کے انتظامات نہیں ہو گئے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ میں نے پیدائش کے بعد کسی اور کو گود دیے جانے سے پہلے 10 دن اپنی والدہ کے ساتھ گزارے، میں نے کوشش کی کہ میں اس بارے میں نہ سوچوں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ نے انھیں کہا کہ وہ جھوٹ بولیں اور لوگوں کو کہیں کہ انھیں چُرا لیا گیا تھا۔
’انھوں نے مجھے کہا کہ اگر میں نے یہ نہ کہا کہ مجھے چُرایا گیا ہے تو ہمارے درمیان سب کچھ ختم ہو جائے گا۔۔۔ اور میں نے کہا کہ میں یہ نہیں کر سکتی۔‘
وہ وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’اگر میں نے جھوٹ بولا تو کوئی بھی ان ماؤں پر یقین نہیں کرے گا۔‘
پھر ان کی والدہ نے انھیں کہا کہ ’وہ چلی جائیں اور تب سے اب تک ان کی کوئی بات نہیں ہوئی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’کیا یہ سب میں دوبارہ کروں گی؟ یقیناً کروں گی، مجھے اپنے نئے خاندان کے بارے میں بہت کچھ پتا چلا ہے۔‘