افغانستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر چیمپیئنز ٹرافی سے باہر کر دیا: ’اب سمجھ میں آئی انگلش ٹیم پر اس میچ کا بائیکاٹ کرنے کا دباؤ کیوں تھا‘

لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں چیمپئنز ٹرافی کے آٹھویں میچ میں افغانستان نے انگلینڈ کو آٹھ رنز سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا ہے۔ آج کی جیت کے بعد افغانستان کا آسٹریلیا کے خلاف اگلا میچ کوارٹر فائنل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
afgahnistan
Getty Images

لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں چیمپئنز ٹرافی کے آٹھویں میچ میں افغانستان نے انگلینڈ کو آٹھ رنز سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا ہے۔

آج کی جیت کے بعد افغانستان کا آسٹریلیا کے خلاف اگلا میچ کوارٹر فائنل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

افغانستان نے مقررہ 50 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز بنائے، جس میں ابراہیم زدران کی 177 رنز کی اننگز خاص بات تھی۔

جواب میں انگلینڈ کی پوری ٹیم 317 رنز ہی بنا سکی جس میں جو روٹ کی 120 رنز کی شاندار اننگز بھی شامل تھی۔

آج کے میچ میں افغان اوپنر ابراہیم زدران نے چند روز قبل انگلش بلے باز بین ڈکٹ کے چیمپئنز ٹرافی کے سب سے بڑے انفرادی سکور 165 کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔

وہ ورلڈکپ کے بعد چیمپئنز ٹرافی میں بھی افغانستان کی جانب سے سنچری بنانے والے پہلے بلے باز بن گئے ہیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

انگلینڈ کی جانب سے اننگز کا آغاز کرنے والے فل سالٹ صرف 12 رنز بنانے کے بعد عظمت اللہ عمرزئی کی گیند پر آؤٹ گئے۔ جبکہ وکٹ کیپر بلے باز جیمی سمتھ بھی نو رنز ہی بنا سکے۔

آسٹریلیا کے خلاف ریکارڈ اننگز کھیلنے والے بین ڈکٹ بھی 38 رنز بنانے کے بعد راشد خان کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے جبکہ ہیری بروکس کو 25 رنز پر محمد نبی نے پویلین واپس بھیج دیا۔

انگلش بیٹر جو روٹ نے 120 رنز بنا کر 46ویں اوور میں آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے 111 گیندوں کا سامنا کیا۔

کپتان جاس بٹلر 42 گیندوں پر 38 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد آؤٹ ہوئے جب کہ لیام لیون سٹون صرف 10 رنز بنائے۔

افغانستان کی جانب سے عظمت اللہ عمرزئی نے تین، محمد نبی نے دو جبکہ راشد خان اور گلبدین نائب نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

خیال رہے کہ یہ میچ اس لیے بھی شروع ہونے سے پہلے خاصا متنازع ہو گیا تھا کیونکہ چیمپیئنز ٹرافی سے قبل برطانیہ میں 150 سے زائد سیاستدانوں نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خواتین کے حقوق کی پامالی پر افغانستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کریں۔

تاہم آئی سی سی کے قواعد کے باعث انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

afghanistan
Getty Images

افغانستان کی اننگز کا احوال

افغانستان نے اننگز کا آغاز کیا تو میچ کے چوتھے اوور کی پہلی گیند پر اوپنر رحمٰن اللہ گرباز چھ رنز بنانے کے بعد جوفرا آرچر کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے جب کہ اسی اوور کی پانچویں گیند پر صدیق اللہ اتل چار رنز بناکر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

افغانستان کی تیسری وکٹ بھی جوفرا آرچر کے حصے میں آئی جب 37 رنز کے مجموعی سکور پر رحمت شاہ چار رنز بنانے کے بعد راشد خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

ابتدائی تین وکٹیں جلد گرنے کے باوجود افغان ٹیم پریشر میں نہیں آئی اور دوسرے اوپننگ بلے باز ابراہم زدران نے کپتان حشمت اللہ شاہدی کے ساتھ مل کر 103 رنز کی شراکت قائم کی۔ شاہدی تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 41 رنز بناکر عادل رشید کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

عظمت اللہ عمر زئی نے 31 گیندوں پرتین چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 41 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ محمد نبی نے بھی 24 گیندوں پر 40 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں تین چھکے اور دو چوکے شامل تھے۔

اننگز کا آغاز کرنے والے ابراہیم زدران 50ویں اوور کی پہلی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ یہ ان کے ون ڈے کریئر کی چھٹی سینچری تھی۔ ان کی اننگز میں چھ چھکے اور 12 چوکے شامل ہیں۔

انگلینڈ کی جانب سے جوفرا آرچر نے تین، لیام لیونگ سٹون نے دو، جمی اوورٹن اور عادل رشید نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ibrahim zadran
Getty Images

'پاکستانی بلے بازوں کو کچھ افغانستان سے ہی سیکھ لینا چاہیے'

پاکستان کے سابق فاسٹ بالر شعیب اختر نے جب افغانستان کو انگلینڈ کے خلاف ایک بڑا ہدف بناتے دیکھا اور پھر انگلش بلے بازوں کو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد آؤٹ ہوتے دیکھا تو پھر انھوں نے سوشل میڈیا کا رخ کیا۔

https://twitter.com/shoaib100mph/status/1894785240494948696?s=48&t=RybCpkBG6mv45dLj3LmVoA

یش تیواری نامی صارف نے مشورہ دیا کہ افغانستان کے بلے باز پاکستان کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ سمجھداری سے کیسے کھیلا جاتا ہے۔

ایکس پر افغان ٹیم کو شیعب اختر نے کہا کہ 'افغانستان کی کیا ہی ٹیم ہے، جو انگلینڈ کو اتنا ٹف ٹائم دے رہی ہے۔ اب آگے بڑھو اور یہ میچ اپنے نام کرو۔'

https://twitter.com/criccrazyjohns/status/1894783029668954134?s=48&t=RybCpkBG6mv45dLj3LmVoA

جونز نامی ایک صارف نے لکھا کہ افغانستان کی ٹیم لاہور پر غالب آ رہی ہے۔۔ چیمپیئن ٹرافی عروج کی طرف جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈ اٹ پر ایک تھریڈ میں جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا افغانستان ایشیا کی دوسری بڑی ٹیم بن کر ابھری ہے تو اکثر افراد اس بات سے اتفاق کرتے دکھائی دیے۔

خیال رہے کہ اس ٹورنامنٹ میں سری لنکن ٹیم رینکنگ پہلی آٹھ ٹیموں میں نہ ہونے کے باعث شرکت نہیں کر پائی، اور ان کی جگہ افغانستان پہلی بار چیمپیئنز ٹرافی ٹورنامنٹ میں شریک ہوئی ہے۔

پاکستان اور بنگلہ ددیش دونوں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں اور اب صرف ایشین ٹیمز میں سے صرف انڈیا اور افغانستان ہی رہ گئے ہیں۔ انڈیا پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے جبکہ افغانستان کے لیے آسٹریلیا کے خلاف میچ کواٹر فائنل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

joe root
Getty Images

انگلش ٹیم پر افغان ٹیم کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا دباؤ کیوں تھا؟

چیمپیئنز ٹرافی سے قبل برطانیہ میں 150 سے زائد سیاستدانوں نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خواتین کے حقوق کی پامالی پر افغانستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کریں۔

افغانستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کے حوالے سے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو خط لیبر پارٹی کی رُکن پارلیمان ٹونیا انٹونیاٹزی نے لکھا تھا اور اس پر ریفارم پارٹی کے سربراہ نائجل فراج اور لیبر پارٹی کے سابق سربراہ جیریمی کوربن سمیت درجنوں سیاستدانوں کے دستخط موجود تھے۔

اس خط میں کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ افغانستان کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر کے طالبان حکومت کو ’واضح پیغام بھیجیں‘ کہ ’ایسی خلاف ورزیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔‘

تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے قواعد کے مطابق بورڈ کی مستقل رُکنیت کے لیے لازمی ہے کہ تمام رکن ممالک خواتین کرکٹ ٹیمیں بنائیں اور ان کی بہتری کے سٹرکچر تشکیل دیں۔

خیال رہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ میچز نہ کھیلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاہم انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے سربراہ رچرڈ گولڈ نے اس بارے میں ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'آئی سی سی میں (افغانستان کے خلاف) بین الاقوامی اقدامات کے حوالے سے اتفاق نہیں پایا جاتا لیکن انگلینڈ کرکٹ بورڈ ایسے اقدامات کی وکالت کرتا رہے گا۔

'اتفاق پر مبنی اور پورے آئی سی سی کی جانب سے ایسے اقدامات لینے سے زیادہ فرق پڑے گا، بجائے اس کے کہ تمام رُکن ممالک انفرادی اقدامات اُٹھائیں۔'

خیال رہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر عائد پابندیوں کے سبب حالیہ برسوں میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم افغانستان کے خلاف کرکٹ سیریز کھیلنے سے انکار کر چکی ہے۔

تاہم آسٹریلیا نے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ اور 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف اپنے میچز کھیلے تھے۔

https://twitter.com/azizzwak/status/1894801781705568696

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین اپنا ردِ عمل دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ افغانستان نے الٹا انگلینڈ کو بائیکاٹ کر دیا ہے۔

عزیز نامی صارف نے لکھا کہ اب مجھے سمجھ آئی کہ انگلینڈ افعانستان سے کھیلنے سے کیوں کترا رہا تھا۔

اچاریا مناس نامی صارف نے لکھا کہ ’انگلش پارلیمان ٹھیک کہہ رہی تھی کہ انھیں افغانستان سے نہیں کھیلنا چاہیے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ یہ انھیں ٹورنامنٹ سے باہر کر دیں گے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC
مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.