بادشاہ احتجاج نہیں کرتے٬ دلچسپ قصہ

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

نپولین بونا پارٹ جزیرے سینٹ بلینا میں اسیری کے دن گزار رہا تھا- یہ جگہ جزیرے کی اصل آبادی سے تین میل دور ایک پہاڑی پر تھی اور یہاں نپولین کی خدمت کے لیے ایک بڑی بی کو مقرر کیا گیا تھا٬ وہ صبح و شام چھوٹی سی کوٹھری کی صفائی کر کے چلی جایا کرتی تھی-

ایک دن ایک برطانوی صحافی نپولین سے ملنے گیا تو اسے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ نپولین کوٹھری کے باہر بیٹھا اس بات کا منتظر ہے کہ بڑی بی صفائی کرچکیں تو وہ اندر جائے- صحافی کو جب اس پر ہونے والے مظالم کا علم ہوا تو اس نے کہا کہ “ یہ آپ کے ساتھ بڑی زیادتی کی جارہی ہے“-

نپولین قدرے غصے سے بولا “ بےشک یہ میرے ساتھ تمہاری قوم کی طرف سے بڑی زیادتی کی جارہی ہے حالانکہ میں ایک فاتح ہوں٬ بہت بڑا فاتح- میں جب بھی کسی ملک کو فتح کیا٬ اپنے مفتوح امراﺀ اور حکمرانوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آیا لیکن ایک تمہاری انگریز قوم ہے جو مجھے ہر قدم پر ذلیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے“-

صحافی نے کہا “ میں صحافی ہوں٬ آپ احتجاج کیجیے میں اسے چھاپ دوں گا“-

نپولین نے جواب دیا “ افسوس٬ احتجاج کرنا میرا کام نہیں ہے٬ بادشاہ یا تو حکم دیں گے یا پھر خاموش رہیں گے“-

(بشکریہ: بڑے لوگوں کے روشن واقعات - خان اکبر علی خان)

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
30 Jan, 2018 Total Views: 2977 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB